"گولڈن ٹیمپل پر آپریشن بلیو اسٹار کے 41 برس: سکھ برادری آج بھی انصاف کی منتظر"

آپریشن بلیو اسٹار کی 41ویں برسی کے موقع پر، امرتسر میں واقع گولڈن ٹیمپل میں سکھ برادری نے اس سانحے کو یاد کرتے ہوئے مختلف تقریبات منعقد کیں۔

 اس موقع پر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے ۔اس بار ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ اکال تخت کے قائم مقام جتھیدار، گیانی کلدیپ سنگھ گرگج، نے روایتی پیغام نہیں دیا، جو کہ 1999 کے بعد پہلی بار ہوا ہے ۔ یہ فیصلہ دامدامی ٹکسال اور دیگر سکھ گروپوں کی مخالفت کے پیش نظر کیا گیا، جنہوں نے جتھیدار کی تقرری کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے تھے ۔برسی کے موقع پر، دل خالصہ اور شیورومنی اکالی دل (امرتسر) جیسے گروپوں کے کارکنان نے "خالصتان زندہ باد" کے نعرے لگائے اور جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کی تصاویر اور خالصتانی پرچم اٹھائے ۔

 اس کے علاوہ، دل خالصہ نے 6 جون کو امرتسر میں مکمل بند کی کال دی تھی ۔بین الاقوامی سطح پر بھی اس برسی کو یاد کیا گیا۔ برطانیہ میں سکھ برادری نے لیبر پارٹی پر 1984 کے گولڈن ٹیمپل حملے میں برطانیہ کے ممکنہ کردار کی تحقیقات نہ کرنے پر تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر ایک عوامی انکوائری کی جائے ۔یہ برسی ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ 1984 کے واقعات سکھ برادری کے لیے آج بھی ایک حساس اور جذباتی موضوع ہیں، اور اس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔