خواتین کو رضا ڈار نے سفید رنگ کی گاڑی میں ایئرپورٹ سے ریسیو کیا،یک بڑے ہوٹل میں ٹھہرایا
بڑے سرمایہ کاروں سے ملوانے کا کہا ،ملزم خواتین کو لاہور لے آیا ڈیفنس کے ایک گھر قید رکھا
رقم کا مطالبہ کیا توسٹیفنی نے والد سے رابطہ کرکے مدد طلب کی جنہوں نے پولیس کو اطلاع دی
پولیس نے کارروائی شروع کی تو ملزم خواتین کو ائیر پورٹ چھوڑنے گیا، راستے میں دونوں بھاگ نکلیں
وحید کو باس ظاہر کیا گیا جس کا کریمنل ریکارڈ موجود : ڈی آئی جی آپریشنزفیصل کامران کی پریس ٹاک
لاہور(کرائم رپورٹر)ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ لاہور پولیس نے دو غیر ملکی خواتین کو مبینہ طور پر اغوا، غیر قانونی حراست اور تشدد کے واقعے میں بحفاظت بازیاب کراتے ہوئے مرکزی ملزم رضا ڈار سمیت آٹھ ملزمان کو گرفتارکرلیا ہے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے مزید کہا کہ واقعے کی رات تقریباً 12 بجے پولیس کو اطلاع ملی کہ ایک خاتون کی بیٹی کو پاکستان میں اغوا کر لیا گیا ہیکارلوس نامی شخص نے پولیس کو آگاہ کیا کہ اسے اغوا برائے تاوان کی کال موصول ہوئی ہے اور اس حوالے سے اسپین پولیس کو بھی اطلاع دے دی گئی ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق دونوں غیر ملکی خواتین 26 جون کو پاکستان آئیں، جبکہ یکم جولائی کو سیف سٹی اتھارٹی کو 15 پر کال موصول ہوئی، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ فون نمبرز، گاڑی کا رجسٹریشن نمبر ٹریس کیا اور تفتیش کا آغاز کر دیاپولیس نے گاڑی کی ٹریول ہسٹری، سیف سٹی کیمروں اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا، جبکہ شاہدرہ، ڈیفنس، سرگودھا اور دیگر علاقوں میں بھی چھاپے مارے گئے۔فیصل کامران کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم رضا گاڑی میں خواتین کو ائیرپورٹ چھوڑنے جا رہا تھا۔ بھٹہ چوک کے قریب خواتین اور ملزم کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی، جس دوران گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی۔ دونوں خواتین گاڑی سے چھلانگ لگا کر باہر نکلیں اور قریبی فلٹر ہاؤس میں پناہ لی، جہاں پولیس نے انہیں بحفاظت ریسکیو کر لیاانہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد اسپین کے سفارت خانے سے رابطہ کیا گیا، بعد ازاں نیدرلینڈز کے سفارت خانے کو بھی اعتماد میں لیا گیاڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہا کہ خواتین ایس پیز نے دونوں غیر ملکی خواتین کو طبی معائنے پر آمادہ کیا، تاہم میڈیکل کرانے کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کے احکامات ضروری تھے۔ چونکہ اس وقت ڈیوٹی پر مجسٹریٹ موجود نہیں تھے اور دونوں خواتین کی صبح پرواز تھی، اس لیے ایک ایس ایچ او کو رات گئے جوڈیشل مجسٹریٹ کی رہائش گاہ بھیجا گیا۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہورفیصل کامران نے اس حوالے سے کہا کہ رات گئے ایس ایچ او کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے گھر بھیجنے پر وہ معذرت خواہ ہیں۔