ناصر باغ میں درخت کاٹنے کی تصاویر موجود‘معاملہ چھوڑا نہیں جا سکتا‘تحقیقات ہوگی لاہور ہائی کورٹ

 ایک اعلی سطح کا افسر تعینات کریں جو سارے معاملہ کی چھان بین کرے، معاملے کو ایسے ختم نہیں کیا جا سکتا، بہت مرتبہ  ایسے ہی چھوڑ دیا گیا 
 سمجھنے سے قاصر ہوں  ناصر باغ کو ہی پراجیکٹ کیلئے کیوں چنا گیا، بطور جج میں پارلیمان کے پالیسی سازی کے معاملہ میں نہیں جا سکتا
یہ حکومت گزشتہ حکومتوں کی نسبت بہتر سمجھتی ہے ماحولیات کا مسئلہ کیا ہے اور اس پر کام کرنا ضروری ہے:جسٹس شاہد کریم کے ریمارکس
لاہور (آئی این پی ) لاہور ہائی کورٹ نے ناصر باغ میں درختوں کی کٹائی پر قرار دیا ہے  درخت کٹنے کی تصاویر موجود ہیں، معاملہ چھوڑا نہیں جا سکتا، اعلی سطح کا افسر سارے معاملے کی چھان بین کرے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی، اس دوران پی ایچ اے کی جانب سے ناصر باغ میں درختوں کی مبینہ کٹائی بارے رپورٹ جمع کرائی گئی کہ این جی او کی مدد سے ایک جگہ سے دوسری جگہ درخت منتقل کئے گئے۔عدالت نے کہا کہ درختوں کی کٹائی کے بارے میں تو ممانعت ہے، پی ایچ اے کے قوانین میں درختوں کی منتقلی کے بارے میں کوئی شق موجود نہیں، آپ کے این او سی میں یہ تمام شقیں موجود ہونی چاہیئں، جو درخت منتقل کیئے گئے ان کی کون دیکھ بھال کرے گا‘ظہر صدیق نے بتایا راحت بیکری کے سامنے درخت کٹا، اس پر جسٹس شاہد کریم نے کہا  اظہر صدیق کی متفرق درخواست پر مکمل جواب جمع کروائیں، میرے پاس بھی تصاویر ہیں جن میں پتہ چل رہا ہے کہ درخت کٹے ہیں۔عدالت نے ہدایت کی  ایک اعلی سطح کا افسر تعینات کریں جو سارے معاملہ کی چھان بین کرے، اس معاملہ کو ایسے ختم نہیں کیا جا سکتا، بہت مرتبہ اسے ایسے ہی چھوڑ دیا گیا ہے، ایک ٹیم بنائیں جو سارے معاملہ کی تفتیش کرے اور مکمل رپورٹ جمع کروائے۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ اے کیو آئی میں بہتری آئی ہے، بڑی گاڑیوں پر جاری کریک ڈاون اچھا اقدام ہے اس کو جاری رہنا چاہئے، پنجاب یونیورسٹی کی گاڑیوں کو چیک کیا گیا، پانچ گاڑیاں معیار کے مطابق نہیں تھی، سردیوں کی چھٹیاں دو ہفتے کی ہوئی ہیں یہ اچھی بات ہے۔جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ناصر باغ کو ہی پراجیکٹ کے لئے کیوں چنا، بطور جج میری اپنی بھی کچھ حدود ہیں، میں پارلیمان کے پالیسی سازی کے معاملہ میں نہیں جا سکتا، جب کسی نے درخواست دی تو پتہ چلا کہ ناصر باغ میں کیا ہوا۔عدالت نے قرار دیا کہ ایل ڈی اے کے قوانین میں بھی ترمیم کرنے کی ضرورت ہے، مجھے پالیسی بنانے کا اختیار نہیں ہے، اس حکومت کو کافی حد تک ان مسائل کا ادراک ہے، یہ حکومت گزشتہ حکومتوں کی نسبت بہتر سمجھتی ہے ماحولیات کا مسئلہ کیا ہے اور اس پر کام کرنا ضروری ہے