اسرائیلی فٹبالر اور اسٹرائیکر شان ویسمن کو غزہ کے خلاف اپنی متنازعہ بیان بازی کے سبب سخت ردعمل اور نتائج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق، ویسمن کو اسپینش کلب گریناڈا سے جرمن کلب فورٹونا ڈسلڈورف میں ٹرانسفر ہونا تھا، لیکن جرمن فٹبال فینز کے شدید دباؤ اور احتجاج کے باعث یہ معاہدہ عمل میں نہیں آ سکا۔ویسمن نے سوشل میڈیا پر غزہ کے حوالے سے 200 سے زائد پوسٹس کی تھیں، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ فوج غزہ کو نقشے سے مٹا دے، اور یہ کہ انہوں نے 200 ٹن بم گرائے ہیں۔ ان بیانات نے مختلف حلقوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا، خاص طور پر جرمن فٹبال برادری میں، جہاں فینز اور حلقوں نے اس رویہ کی مذمت کی۔
جرمن فٹبال فینز کے دباؤ اور احتجاج کے نتیجے میں، جرمن کلب ڈسلڈورف نے شان ویسمن کے ساتھ معاہدہ روک دیا۔ اس معاملے پر فٹبال اور عوامی سطح پر تنقید جاری ہے، اور یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فٹبال کے پلیئرز کو اپنے بیانات اور رویوں میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، خاص طور پر حساس اور متنازعہ موضوعات کے حوالے سے۔