سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
اے پاکستان کی بیٹی!یہ وطن تمہارا بھی اتنا ہی ہے۔1965کے جذبے کی ترجمانی صرف مردوں کی بہادری بیان کرکے مکمل نہیں ہوتی۔پاکستان کی عورت نے ہرمشکل دورمیں اپنا کرداراداکیاہے۔اس نے بیٹاوطن کودیا،شوہرکوحوصلہ دیا،زخمیوں کی خدمت کی،گھروں کوسنبھالا،تعلیم کی شمع جلائی اورآنے والی نسلوں کے ذہن بنائے۔آج پاکستان کی بیٹی کامحاذ شاید یونیورسٹی میں ہو،کسی ہسپتال میں،کسی لیبارٹری میں،کسی کلاس روم میں،کسی عدالت میں،کسی کاروبارمیں،کسی ٹیکنالوجی کمپنی میں،کسی سرکاری ذمہ داری میں یااپنے گھرمیں اگلی نسل کی تربیت کرتے ہوئے۔قومیں صرف سرحدوں پر نہیں بنتیں۔قومیں ماں کی گود میں بھی بنتی ہیں۔اگرایک ماں اپنے بچے کویہ سکھادے کہ پاکستان کی خدمت صرف نعرے سے نہیں بلکہ سچ،دیانت،علم اورمحنت سے ہوتی ہے تووہ شایدایک پورے مستقبل کی تعمیرکررہی ہوتی ہے۔
اے بزرگ پاکستانیو!آپ ہماری زندہ تاریخ ہیں۔وہ بزرگ جنہوں نے پاکستان بنتے دیکھا۔جنہوں نے ہجرت کی داستانیں سنیں۔جنہوں نے1965کے سائرن سنے۔ جنہوں نے ریڈیوکے گردخاندانوں کوجمع دیکھا،جنہوں نے وہ وقت دیکھاجب پڑوسی پڑوسی کیلئے کھڑا تھا۔آپ ہمارے لیے صرف ماضی نہیں،آپ ایک امانت ہیں۔آج کی نسل کووہ پاکستان سنائیے جہاں لوگوں کے پاس سہولتیں کم تھیں لیکن شاید ایک دوسرے کیلئے جگہ زیادہ تھی۔انہیں بتائیے کہ آزادی مفت نہیں ملی۔انہیں بتائیے کہ وطن صرف زمین نہیں ہوتا۔وطن یادوں، قبروں،قربانیوں،دعاؤں،زبانوں،ثقافتوں اورآنے والی نسلوں کامشترکہ گھرہوتاہے۔
سب سے خطرناک جنگ شایدسرحدپرنہیں!آج پاکستان کے سامنے صرف روایتی فوجی خطرات نہیں۔ایک اورجنگ بھی ہے۔مایوسی کی جنگ،ذہنی غلامی کی جنگ،جھوٹی اطلاعات کی جنگ،معاشی انحصار کی جنگ،تعلیمی پسماندگی کی جنگ،کردارکے بحران کی جنگ،اس جنگ میں گولی کی آوازنہیں آتی لیکن قومیں اندرسے کمزورہوجاتی ہیں۔جب نوجوان یقین کھو دے کہ وہ کچھ نہیں بدل سکتا ،جب میرٹ بے معنی ہوجائے،جب علم کاطالب علم ملک چھوڑنے کوکامیابی کاواحدراستہ سمجھنے لگے،جب ہم ہرقومی مسئلے کاذمہ دارصرف ’’دوسروں‘‘کوقراردے کراپنی ذمہ داری سے بچ جائیں،یہ سراسرشکست ہے۔
اس لیے6ستمبرآج ہم سے نئی قسم کاسپاہی مانگتاہے۔ایساسپاہی جواپنی جگہ کھڑاہو۔استادہے تودیانت سے پڑھائے،ڈاکٹرہے تو مریض کوامانت سمجھے،تاجرہے توناپ تول درست رکھے،سرکاری ملازم ہے توقوم کے وقت کواپنا مال نہ سمجھے،سیاست دان ہے تواقتدارکو خدمت سمجھے،صحافی ہے توخبرکوامانت سمجھے،عالم ہے توامت کوجوڑے۔نوجوان ہے توخودکوعلم اور مہارت سے مسلح کرے۔
پاکستان ناقابلِ شکست کب ہوگا؟کیاصرف اس وقت جب ہمارے پاس جدید ترین میزائل ہوں؟نہیں۔کیاصرف اس وقت جب ہمارے پاس ایٹمی صلاحیت ہو؟نہیں۔ کیا صرف اس وقت جب ہماری افواج مضبوط ہوں؟یہ بہت ضروری ہے مگرکافی نہیں۔پاکستان واقعی ناقابلِ شکست اس دن ہوگاجب فوج مضبوط ہواورمعیشت بھی مضبوط ہو، دفاع مضبوط ہواور تعلیم بھی۔سرحدمحفوظ ہو اورعدالت بھی قابلِ اعتمادہو۔میزائل جدیدہواوریونیورسٹی بھی۔ایٹمی صلاحیت موجودہواورتوانائی،صنعت،زراعت اور ٹیکنالوجی میں بھی خود انحصاری ہو۔مسجدآباد ہواوربازارمیں دیانت بھی ہو۔قرآن پڑھاجائے اورمعاملات میں اس کی اخلاقیات بھی نظر آئیں۔ہم دشمن کے خلاف متحد ہوں اورایک دوسرے کے حقوق کیلئے بھی کھڑے ہوں۔قومی دفاع،فکری دفاع،معاشی دفاع،اخلاقی دفاع اورتہذیبی دفاع یہی مکمل دفاع ہے۔
6ستمبر ہم سے خون نہیںکردارمانگتاہے۔ہمیں ہرنسل سے جنگ مانگنے کی ضرورت نہیں۔قوموں کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ ہمیشہ لڑتی رہیں۔عظمت اس میں ہے کہ وہ اتنی طاقتور، منظم،عادل اورباوقارہوجائیں کہ جنگ ان پرمسلط کرنے کی جرت کوئی نہ کرے۔ہمارے شہدانے اپنا خون اس لیے نہیں دیاتھاکہ ہماری آنیوالی نسلیں ہمیشہ میدانِ جنگ میں رہیں۔انہوں نے جان اس لیے دی تھی کہ ہم امن کے ساتھ آزادرہ سکیں۔اسی لیے شہیدکاسب سے بڑااحترام شایدصرف پھول چڑھانانہیں۔اس کے خواب کاپاکستان بنانا ہے ۔ وہ پاکستان جہاں اس شہیدکابچہ انصاف سے محروم نہ ہو۔جہاں کسی غریب کاباصلاحیت بیٹا صرف غربت کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائے۔جہاں ایک بیٹی محفوظ ہو۔جہاں ایک کسان باعزت ہو۔جہاں استادکی قدرہو۔جہاں سائنسدان کووسائل ملیں۔جہاں نوجوان کوامیدملے۔جہاں قانون بڑے اورچھوٹے کوایک نظرسے دیکھے۔تب شایدہم شہدا کی قبروں پرسرخرو ہوکرجاسکیں گے۔
میرے رب!ہمیں پھروہ قوم بنادے،اے اللہ!ہم تیرے حضوراپنی کوتاہیوں کااعتراف کرتے ہیں۔تونے ہمیں ایک وطن دیا۔ہم نے ہمیشہ اس کی قدرنہ کی۔تونے ہمیں وسائل دیے۔ہم نے انہیں ہمیشہ حکمت سے استعمال نہ کیا۔تونے ہمیں صلاحیت دی۔ہم نے کئی باراسے اختلافات میں ضائع کیا۔تونے ہمیں دشمن کے سامنے بارہاسربلندرکھا۔ہم اپنے نفس کے سامنے ہمیشہ سربلندنہ رہ سکے۔اے رب!ہمیں پھروہی دل عطاکردے جومشکل میں ایک ہوجاتاتھا،وہ آنکھ دے جواپنی غلطی بھی دیکھ سکے۔ وہ علم دے جو محتاجی سے نکال دے، وہ قیادت دے جوامانت کاحق اداکرے، وہ نوجوان دے جودنیاسے مانگنے کی بجائے دنیاکودینے والابنے،ایسی سائنس دے جو انسانیت کے کام آئے، ایسی طاقت دے جس سے مظلوم محفوظ ہو، ایسا دفاع دے جوجنگ کوروکے۔ ایسی معیشت دے جوہمارے فیصلوں کوآزادکرے اورہمیں ایسا کرداردے کہ دنیاہماری طاقت سے پہلے ہمارے انصاف کی مثال دے۔
آج اس عہدکودہرائیں:آج 6 ستمبرپر صرف یہ نہ کہیںہمیں اپنے شہدا پر فخر ہے۔یہ بھی کہیںہم ان کی قربانی کے مقروض ہیں۔صرف یہ نہ کہیں:پاکستان ہمیشہ قائم رہے گا۔یہ بھی پوچھیں،پاکستان کو مضبوط رکھنے کیلئے میں آج کیا کررہا ہوں؟صرف جھنڈانہ لگائیں،اپنے کردارپر بھی پاکستان لکھیں۔صرف ملی نغمہ نہ سنیں،اپنے کام کوبھی قومی خدمت بنائیں۔ صرف دشمن کی کمزوری نہ گنیں،اپنی کمزوریاں بھی ختم کریں۔صرف ایٹمی قوت پرفخرنہ کریں،ایسی علمی،معاشی اوراخلاقی قوت بنیں کہ دنیاپاکستان کی طرف احترام سے دیکھے۔
ایک دن ہماری نسل بھی تاریخ بن جائے گی۔آج کے بچے بڑے ہوں گے۔وہ پوچھیں گے جب پاکستان مشکل میں تھاتوآپ کیا کر رہے تھے؟کیا ہم کہیں گے ہم ایک دوسرے سے لڑرہے تھے؟ہم نفرت پھیلارہے تھے؟ہم مایوس بیٹھے تھے؟یاہم کہیں گے:ہم نے پاکستان کودوبارہ کھڑاکیاتھا۔ تعلیم کوطاقت بنایا، تحقیق کوقومی ترجیح بنایا، نوجوان کوامید دی۔ ہم نے صنعت اور ٹیکنالوجی بنائی۔ہم نے اپنے اختلاف کے باوجودوطن کوایک رکھا۔ہم نے اپنے رب سے کیاہواعہدیادکیااورہم نے آنے والی نسلوں کوایک ایساپاکستان دیاجو صرف نقشے پربڑانہیں تھابلکہ کردارمیں بڑاتھا۔
6ستمبر1965کے شہدا:تمہاری قبروں سے آج بھی ایک آوازآتی ہے۔تم پوچھتے ہوکیاپاکستان محفوظ ہے؟ہم کہتے ہیں ہاں، اس کی سرحدوں پرآج بھی تمہارے بھائی کھڑے ہیں۔تم پوچھتے ہوکیاپاکستان مضبوط ہے؟ہم کہتے ہیں اس کے پاس وہ دفاعی صلاحیت ہے جس کاتمہارے دورمیں تصوربھی مشکل تھا۔پھرشایدتم ایک آخری سوال پوچھو:کیا وہ قوم بھی ویسی ہی مضبوط ہے جس کیلئے ہم نے جان دی تھی؟اوریہاں ہماری زبان رک جاتی ہے کیونکہ اس سوال کاجواب تقریروں میں نہیں ملے گا۔یہ جواب ہمارے اسکول دیں گے ۔ ہماری عدالتیں دیں گی،ہماری سڑکیں دیں گی،ہماری یونیورسٹیاں دیں گی،ہمارابازاردے گا،ہمارا کردار دے گا،ہمارا نوجوان دے گا۔
6ستمبرکو صرف ماضی کی یادنہ بنائیں۔اسے مستقبل کاعہدبنادیں۔عہد کریں کہ پاکستان کوکسی شخص،جماعت،زبان، صوبے یانسل سے چھوٹانہیں ہونے دیں گے۔ عہد کریں کہ ایمان کوکردارسے جوڑیں گے۔حب الوطنی کومحنت سے،آزادی کو خود انحصاری سے،دفاع کوعلم سے،طاقت کوانصاف سے اورپاکستان کواس مقصدسے جس کیلئے ہمارے بڑوں
نے خواب دیکھے،گھرچھوڑے،ہجرتیں کیں اورجانیں دیں۔پھرشاید ایک دن دنیاپاکستان کوصرف ایک ایٹمی ریاست کے طورپرنہیں دیکھے گی بلکہ کہے گی:یہ وہ قوم ہے جس نے اپنی غلطیوں سے سیکھا،اپناعہددوبارہ یادکیا،اپنی قوت خودپیدا کی،اپنے اختلافات پرقابوپایااورطاقت کے باوجودامن کواپناراستہ بنایااورشاید تب آسمان سے ہماری طرف رحمت کی نظرہواورہماری آنے والی نسلیں6ستمبرکی داستان پڑھ کر صرف یہ نہ کہیںہمارے بزرگ عظیم تھے بلکہ فخر سے کہیں،انہوں نے وطن بچایاتھااورہم نے ان کے خواب کا پاکستان بنایا،پاکستان صرف ہماری زمین نہیں،یہ ہمارے شہداکی امانت،ہمارے بزرگوں کی دعا،ہماری ماں کی قربانی، ہمارے بچوں کامستقبل اورہمارے رب کے سامنے ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
اس امانت کو تھامے رکھیے۔ اسے اختلاف کی آگ میں نہ جلنے دیں۔اسے مایوسی کے ہاتھوں ہارنے اور جہالت کے سپرد اوراسے قرض،محتاجی اورذہنی غلامی کی زنجیروں میں نہ جکڑنے دیجیے۔اپناعلم ، صلاحیت ، دیانت، محنت ، دعاپاکستان کودیجیے کیونکہ کبھی سرحدپرکھڑے کسی سپاہی نے اپنے آج کوہمارے کل کیلئے قربان کیاتھا۔اب ہماری باری ہے کہ اپنے آج سے پاکستان کا کل بنائیں۔
پاکستان ہمیشہ پائندہ باد