پاکستان:عہدِناتمام

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
کچھ تاریخیں کیلنڈرکے اوراق پرصرف ہندسوں کی صورت لکھی ہوتی ہیں،مگرکچھ تاریخیں قوموں کے دلوں پرلکھی جاتی ہیں۔6ستمبر1965بھی ایسی ہی ایک تاریخ ہے۔یہ صرف توپوں کی گھن گرج،ٹینکوں کی پیش قدمی،فضائی معرکوں اور سرحدوں کے دفاع کانام نہیں۔یہ اس لمحے کانام ہے جب ایک پوری قوم نے گویاایک ہی وقت میں اپنے دل پرہاتھ رکھ کرکہا تھا:یہ زمین ہماری امانت ہے۔اس کی حفاظت صرف فوج نہیں ،ہم سب کریں گے۔
اس روزمحاذصرف سرحدپرنہیں تھا۔ایک محاذلاہورکے گردتھا۔ایک محاذ سیالکوٹ کے میدانوں میں تھا۔ایک محاذفضاؤں میں تھالیکن ایک محاذ پاکستان کے ہرگھر کے اندربھی تھا۔ کوئی ماں اپنے بیٹے کووردی پہناکردروازے تک چھوڑرہی تھی۔کوئی بوڑھا باپ بیٹے کی پیشانی چوم کراپنی آنکھوں میں چھپے آنسوواپس پلکوں کے پیچھے دھکیل رہاتھا۔کوئی بیوی  شوہر کورخصت کرتے ہوئے مسکرارہی تھی تاکہ اس کے قدم کمزورنہ پڑجائیں۔کوئی بچہ ریڈیوسے آنے والی ہرخبرکوسانس روکے سن رہاتھا۔کوئی نوجوان خون کاعطیہ دینے کیلئے قطار میں کھڑاتھا۔کوئی مزدور،کوئی دکاندار،کوئی طالب علم،کوئی استاداپنی اپنی جگہ پاکستان بن گیاتھا۔وہ ایک عجیب وقت تھا۔خوف بھی تھا،مگرخوف سے بڑایقین تھا۔خطرہ بھی تھا،مگرخطرے سے بڑی غیرت تھی۔گھروں میں دعائیں ،مساجدمیں سجدے تھے۔ہسپتالوں میں خدمت تھی۔سڑکوں پرجذبہ تھااورسرحدوں پروہ سپاہی کھڑے تھے جنہیں اپنے پیچھے چندشہرنہیں بلکہ ایک پوری قوم کھڑی دکھائی دیتی تھی۔شایدیہی کسی قوم کی سب سے بڑی دفاعی طاقت ہوتی ہے جب وردی پہننے والاجانتا ہوکہ اس کے پیچھے کھڑاہرشہری اسی جنگ کاسپاہی ہے۔
آج جب ہم6ستمبرکاذکرکرتے ہیں تواکثر ہماری نگاہ ٹینکوں،جہازوں،بندوقوں اورمورچوں کی طرف چلی جاتی ہے۔مگرایک لمحے کیلئے ان دروازوں کی طرف بھی دیکھئے، جہاں سے جوان اپنے گھروں سے نکلے ہوں گے۔سوچئے!ایک ماں نے بیٹے کوپالا،بخارمیں راتیں جاگ کرگزاریں،اس کے پہلے قدم دیکھے،پہلا لفظ سنا، اس کیلئے خواب دیکھے پھرایک دن وطن نے اسی بیٹے کوپکارا،اورماں نے اپنی ممتاکوسینے میں دفن کرکے کہاہوگا:جاؤ بیٹا، پاکستان تمہیں بلا رہا ہے۔وہ مائیں کس مٹی کی بنی تھیں؟یہ جملہ بولناآسان ہے؟جس ماں کیلئے اس کابیٹاپوری دنیاہو،وہ اپنی دنیاوطن کی حفاظت کیلئے پیش کردے،یہ صرف قربانی نہیں،ایک ایسی روحانی کیفیت ہے جسے الفاظ پوری طرح بیان نہیں کرسکتے۔اوروہ باپ؟جس نے بیٹے کے کندھے مضبوط ہونے کاانتظارکیاتھا،شاید اس دن اس نے انہی کندھوں پرقوم کی ذمہ داری رکھ دی۔وہ بیویاں؟جن کے گھروں کے چراغ سرحدوں کی طرف روانہ ہوگئے۔وہ بچے؟جنہیں شایدیہ بھی پوری طرح معلوم نہ ہوکہ جنگ کیاہوتی ہے،مگراتناسمجھ گئے ہوں کہ ابوکسی بہت ضروری کام کیلئے گئے ہیں۔یہی وہ خاموش کردارہیں جن کانام اکثرجنگی نقشوں پرنہیں لکھاجاتا،لیکن تاریخ ان کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔
6ستمبر صرف سپاہیوں کایومِ دفاع نہیں۔یہ ماں کے صبر،باپوں کے حوصلے،عورتوں کی استقامت،بچوں کی معصوم دعاؤں، نوجوانوں کے جذبے اورپوری قوم کی اجتماعی غیرت کا دن ہے۔1965 کاسب سے بڑاہتھیارکیاتھا؟کیاوہ ٹینک تھا؟کیاوہ توپ تھی؟کیاوہ لڑاکاطیارہ تھا؟کیاوہ بندوق تھی؟یہ سب ضروری تھے مگران سب سے بڑاہتھیارشاید ایک اورتھا:قوم کا ایک ہونا۔ اس وقت کسی نے یہ نہیں پوچھاہوگاکہ تم کس صوبے سے ہو،کوئی یہ نہیں دیکھ رہاتھاکہ تمہاری زبان کیاہے،کوئی یہ نہیں سوچ رہاتھاکہ تمہارامسلک،برادری یاسیاسی نظریہ کیاہے؟سوال صرف ایک تھا:پاکستان کوہماری ضرورت ہے یانہیں؟اورجواب تھا"’’ہے‘‘۔بس،وہیں اختلاف پیچھے رہ گیااورپاکستان آگے آگیا۔جب قومیں اپنی ذات سے بڑی کسی چیزپرمتفق ہو جائیں توتاریخ کے ناممکن دروازے بھی کھلنے لگتے ہیں۔یہی 6ستمبرکاسب سے بڑاسبق ہے۔
دفاع صرف سرحد کا نہیں ہوتا،قوم کے نظریے کابھی دفاع ہوتاہے۔اخلاق کابھی،تعلیم کابھی،معیشت کابھی،قومی وحدت کابھی،سچ کابھی،انصاف کابھی اورسب سے بڑھ کراس عہدکادفاع ہوتاہے جس پرکوئی قوم کھڑی کی گئی ہو۔پاکستا ن صرف زمین کاٹکڑانہیں،پاکستان کے قیام کوہماری اجتماعی یادداشت نے ہمیشہ ایک غیرمعمولی روحانی نسبت کے ساتھ دیکھاہے۔قیامِ پاکستان اوررمضان المبارک کی نسبت نے نسلوں کے دلوں میں یہ احساس پیداکیاکہ شایداس وطن کامقصد صرف ایک جغرافیائی سرحدحاصل کرنانہیں تھا۔ایک خواہش اورحقیقت کے درمیان جمائی کھاتی ہواایک حسین خواب،ایک ایسی ریاست کاتصورتھاجہاں مسلمان اپنے دین،تہذیب اوراجتماعی اصولوں کے مطابق باوقارزندگی گزار سکیں؛جہاں انسان انسان کاغلام نہ ہو،جہاں طاقت قانون کے تابع ہو،جہاں کمزورکوانصاف ملے،جہاں علم عبادت بنے،دیانت ریاستی کرداربنے اورقرآن وسنت کی اخلاقی تعلیمات ہمارے اجتماعی ضمیرکوشکل دیں۔
ہماری قومی روایت میں باربارایک معنی خیزپکارسنائی دیتی ہے:اے رب! ہمیں ایسی سرزمین عطا فرما جہاں ہم بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر صرف تیرے سامنے جھکنے والا آزاد انسان بنا سکیں۔یہ تصورمحض ایک نعرہ نہیںیہ ہمارے کردارکامعیارہوناچاہیے تھا۔پاکستان کامطلب صرف سبزپرچم لہرانانہ تھا۔پاکستان کامطلب یہ بھی تھاکہ یہاں انصاف دنیاکوحیران کردے۔یہاں حکمران خودکوحاکم نہیں،امین سمجھیں۔یہاں قومی خزانہ ذاتی جاگیرنہ ہو۔یہاں یتیم کے حق سے لے کرریاستی فیصلے تک امانت کاتصورزندہ ہو۔یہاں علم اورتحقیق کووہ مقام ملے جس کاحکم پہلی وحی کے لفظ ’’اقرا‘‘میں موجودہے۔یہاں بازارمیں دیانت ،عدالت میں انصاف ،سیاست میں اخلاق،معیشت میں خودانحصاری ،تعلیم میں تحقیق ہواور طاقت کے ساتھ رحم ہو۔
لیکن پھرہم اپنے عہدسے کتنے وفاداررہے؟یہ سوال تکلیف دیتاہے۔لیکن قومیں صرف قصیدے سن کرزندہ نہیں رہتیں۔قومیں اپنے زخم دیکھنے کاحوصلہ بھی پیداکرتی ہیں۔ہمیں اپنے آپ سے پوچھناہوگا:کیاہم نے واقعی اس وطن کواس کے بلندمقصد کے مطابق بنایا؟کیاہمارے اداروں میں امانت ہمیشہ مقدم رہی؟کیا ہم نے انصاف کوطاقتوراورکمزوردونوں کیلئے برابررکھا؟کیاہم نے علم،تحقیق اورٹیکنالوجی کوقومی ترجیح بنایا؟کیاہم نے فرقہ،زبان،جماعت اورذاتی مفادسے اوپرپاکستان کورکھا؟کیاہم نے اوفوابالعہدعہد پورا کرنے کے قرآنی اصول کواپنی انفرادی اوراجتماعی زندگی کاحصہ بنایا؟یاہم بارباراپنے ہی وعدوں سے پھرے؟
یہاں ہمیں دوسروں پرانگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکناہوگاکیونکہ ریاستیں صرف حکمرانوں کے کردارسے نہیں بنتیں،قوم بھی ریاست بناتی ہے۔رشوت دینے والا بھی ذمہ دارہے اورلینے والابھی۔جھوٹاسوداکرنے والابھی،امتحان میں نقل کرنے والابھی،میرٹ توڑنے والابھی،قانون کواپنے لیے مختلف سمجھنے والابھی،قوم کے اندرنفرت پھیلانے والابھی،بغیر تحقیق خبرآگے بڑھانے والابھی،اوروہ صاحبِ اختیاربھی جوعوامی امانت کوذاتی مفادبنالے۔اگرپاکستان ایک عہد ہے،تواس عہدکے فریق ہم سب ہیں۔
اوراس سب کے باوجود میرے رب!!تیراکرم ختم نہیں ہوا:یہاں پاکستان کی داستان ایک اورحیران کن موڑلیتی ہے۔ہم نے غلطیاں کیں۔ہم لڑکھڑائے۔ہم سیاسی بحرانوں سے گزرے۔ہم معاشی مشکلات میں پھنسے۔ہم نے ایک دوسرے کوکمزور کیا۔ہم نے کئی مواقع ضائع کیے۔لیکن اس سب کے باوجود ہ وطن قائم ہے۔اورصرف قائم نہیں،اس نے ایسے ایسے مراحل عبورکیے جوکبھی ناممکن دکھائی دیتے تھے۔وہ ملک جس کے وسائل محدودتھے،اس نے سائنس کی طرف قدم بڑھایا۔اس نے اپنے سائنسدان پیداکیے۔ اپنے انجینئر پیداکیے۔اپنی دفاعی صنعت کھڑی کی۔میزائل،طیارہ سازی،ریڈار،بحری صلاحیت،دفاعی تحقیق اورسب سیبڑھ کرایٹمی دفاعی صلاحیت حاصل کی۔مئی 1998میں پاکستان نے دنیاکے سامنے اپنی ایٹمی صلاحیت کاعملی اظہارکیااورجنوبی ایشیامیں ایک نئی دفاعی حقیقت وجودمیں آئی۔یہ طاقت جشنِ جنگ کیلئے نہیں ہونی چاہیے۔اس کااصل مفہوم کہیں زیادہ سنجیدہ ہے۔ایسا دفاعی توازن پیدا کرنا کہ کوئی دشمن جنگ شروع کرنے سے پہلے سو بار سوچے۔
اے آج کے نوجوان1965کاسپاہی تمہیں بلارہا ہے۔شاید تم سوچوکہ6ستمبرکی جنگ توساٹھ برس سے زیادہ پرانی بات ہے۔اس کاآج مجھ سے کیاتعلق؟بہت گہراتعلق ہے۔ 1965میں ایک نوجوان نے مورچہ سنبھالاتھا،آج تمہیں علم کامورچہ سنبھالناہے۔اس نے سرحدکی حفاظت کی،تمہیں پاکستان کے مستقبل کی حفاظت کرنی ہے۔وہ گولی کے سامنے کھڑاہوا،تمہیں جہالت،کرپشن،جھوٹ،مایوسی،فرقہ واریت،نفرت اورذہنی غلامی کے سامنے کھڑاہونا ہے۔اس نے بندوق اٹھائی۔تمہیں کتاب،کمپیوٹر،لیبارٹری، کاروبار، ہنر،تحقیق اورکرداراٹھاناہے۔آج پاکستان کولاکھوں ایسے نوجوان چاہییں جویہ فیصلہ کریں:میں نقل نہیں کروں گا، جھوٹ نہیں بولوں گا، شارٹ کٹ نہیں لوں گا، دنیا کاعلم سیکھوں گا، ٹیکنالوجی بناؤں گا،صرف استعمال نہیں کروں گا، کاروبارپیدا کروں گا، تحقیق کروں گا، اپنی مہارت سے دنیامیں پاکستان کانام پیداکروں گا، اختلاف کروں گا،مگرپاکستان نہیں توڑوں گا۔ اپنی زبان،صوبے اورشناخت سے محبت کروں گا،مگردوسری شناختوں سے نفرت نہیں کروں گا۔ دین کوکرداربناؤں گا، محض نعرہ نہیں۔اگرآج کانوجوان یہ عہد کرلے توشاید یہی اکیسویں صدی کا یومِ دفاع ہوگا۔(جاری ہے)