تحریر:محمد شاہ دوتانی
پاکستان کے حصول اور بقاء کی تاریخ بے مثال قربانیوں کی داستان سے عبارت ہے۔وطن عزیز نے جب بھی قربانیوں کا تقاضا کیا، اس پاک مٹی کے فرزندوں نے تن من دھن قربان کرنے کیلئے لمحہ بھرکی بھی تاخیر نہ کی۔سر پر کفن باندھ کر رزمگاہ حق و باطل کا رخ کیا اور اپنی لہو سے قوم و ملت کو ایک نئی زندگی سے نوازا۔جہاں تک شہداء کی عزت و تکریم کا تعلق ہے اس میں دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ پوری قوم اپنے شہداء کے لیے دل کی گہرائیوں سے سپاس گزار ہے اور ان کی قربانیوں کی معترف ہے، شہید کی جو موت ہے وہ یقینا قوم کی حیات ہے، شہدائے کرام وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل کو محفوظ بنانے کے لیے قربان کر کے لازوال رتبہ حاصل کیا۔ شہداء کے لیے قوم کے ان جذبات کی پشت پر قرآن و حدیث کی تعلیمات کی تائید بھی پر زور انداز میں شامل ہے، اس سے بڑھ کر شہداء کے لیے خراج عقیدت اور کیا ہو سکتا ہے کہ خود خالق کائنات نے مسلمانوں کو حکم فرمایا ہے کہ’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا(سورۃ بقرہ:آیت 154) اللہ کی راہ میں جان قربان کر کے حیات جاودانی پانے والے شہداء کے بلند مرتبے اور فضائل سے متعلق رسول کریم حضرت محمد مصطفی کے بہت سے ارشادات مبارکہ بھی احادیث کی کتب میں موجود ہیں، قرآن حکیم اور رسول کریم کی واضح ہدایات کے بعد کسی مسلمان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ شہداء کے بارے میں عزت و تکریم کے علاوہ کوئی دوسرا جذبہ اپنے دل و دماغ میں پروان چڑھائے، انسان تو ایک طرف شہدا کو تو وطن کی ہوائیں بھی سلام کہتی ہیں بقول شاعر:
اے راہ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو!
وطن کی ہوائیں تمہیں سلام کہتی ہیں
یوں شہید پوری قوم کی مشترکہ میراث ہیں، جنہوں نے یہ نعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے کہ ’’جان بھی دی ہوئی اسی کی تھی،حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا‘‘ اپنی جان راہ حق میں قربان کر دی۔ قوم کا ہر ہر فرد ان کا مقروض ہے اور اپنا دینی و ملی فریضہ سمجھ کر ان کی قربانیوں کی قدر کرتا اور ان کے لیے جذبات تشکر سے سرشار ہے۔وطن کیلئے کارہائے نمایاں انجام دینے اور جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا اور غازی جوتعلیمی نصاب اور تاریخی کتب میں ہمیشہ زندہ تابندہ رہتے ہیں اور ان پر لکھے گئے ملی نغمے گاکر قوم کے نونہال بجا اور فخریہ طور پر اپنے اندریہی ہیرو بننے کا عزم پیدا کرتے ہیں۔ شاہرات اور شاندار عمارتوں پر نصب ان کیمجسمے محض ماحول کی آرائش نہیں بلکہ ہر آنے والی نسل کیلئے اپنے اندر جذبہ حب الوطنی سے وابستہ کہانی اور پیغام رکھتے ہیں۔
افسوس صد افسوس اقتدار کے حصول کیلئے ایک سیاسی جماعت کے رہنما اور کارکن سوشل میڈیا پر مسلسل افواج پاکستان کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا مہم چلا رہے ہیں، ہماری سرحدوں کی محافظ فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے، لیکن چند ناعاقبت اندیش عناصر اس کے امیج کو نقصان پہنچانے کی جو ناپاک کوشش کر رہے ہیں، انھیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جن ملک کی افواج کمزور ہوئیں، ان کا حشر بھی سب کے سامنے ہے، اس کی تازہ ترین مثالیں سوڈان اور صومالیہ کی ہیں۔موجودہ حالات میں پاک فوج نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے مذموم عزائم کا راستہ روکا ہوا ہے۔ حقائق اس بات کے شاہد ہیں کہ پاکستان کے دشمن اور ہمسایہ ممالک نے جس طرح اپنی سازشوں کا جال پھیلایا ہوا ہے اگر ہمارے دفاعی ادارے ان کو ناکام بنانے کے لیے برسر پیکار نہ ہوتے تو پاکستان کو توڑنے اور کمزور کرنے کی سازشوں میں مصروف عناصر کامیاب ہو چکے ہوتے۔ تحقیقات اس صورتحال کو بے نقاب کر چکی ہیں کہ کئی لوگ لاپتہ افراد کی آڑ میں اپنے دشمن کے ایجنٹوں کے ذریعے مسلسل پاکستان کے دفاعی اداروں کے خلاف پروپیگنڈے کو ہوا دے رہے ہیں۔ اسی طرح یورپ، امریکا اور کینیڈا کے علاوہ دنیا کے کئی اور ممالک میں بہت سے پاکستانی سیاسی پناہ لینے کی غرض سے خود کو پاکستان مخالف ظاہر کرتے ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا دشمن انڈیا پہلے دن سے ہی پاک فوج کے خلاف ہر محاذ پر زہراگلتا چلا آرہا ہے۔لیکن جب سے پاکستان آرمی نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنے جوانوں کا لہو بہا کر بلوچستان میں بھارت کے مکروہ منصوبے کو خاک میں ملایا ہے تب سے اس نے اپنا اصلی روپ دکھاتے ہوئے پاکستان آرمی کے خلاف ایک محاذ کھول دیا ہے۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردوں کے خلاف مسلط کی گئی جنگ میں ہم نے ملک و قوم کی سلامتی و بقاء کیلئے 80 ہزار جانوں کے نذرانے پیش کیے، دو سو ارب ڈالر سے زائد مالی نقصان برداشت کیا۔ہماری افواج پاکستان کے بہادر جوان ہماری بقاء کیلئے جامِ شہادت نوش کر کے امر اور غازی بن کر سرخرو ہو رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشن’’راہِ حق‘‘، آپریشن’’راہِ راست‘‘ آپریشن’’راہِ نجات‘‘،آپریشن’’ضربِ عضب‘‘اورپھر آپریشن ’’ ردالفساد‘‘ شروع کیے اور دہشت گردوں کے ٹھکانے اور مراکز تباہ کرکے مختلف علاقوں میں امن قائم کیا۔کہا جاتا ہے کہ پاکستان آرمی ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک خاندان ہے جو اپنے دکھ اور سکھ میں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہتے ہیں۔ میدانِ جنگ ہو یا امن کا ماحول پاک فوج کے جوان اور افسر ہمیشہ یکجان ہوکر اس ملک کی خدمت میں مصروفِ عمل رہتے ہیںجنگوں میں پاک فوج کی صلاحیتوں کی تو پوری دنیا متعارف ہے،پاک فوج نے روایتی اور غیر روایتی جنگوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا تو منوایا ہی ہے ساتھ ہی ساتھ ملک کو درپیش قدرتی آفات میں بھی کبھی تنہا نہیں چھوڑا۔ ہر قسم کی ناگہانی آفت اور افراتفری کے عالم میں پاک فوج نے کبھی اپنے ہم وطنوں کو مایوس نہیں کیا اور ہمیشہ سب سے پہلے متاثرین کی امداد کو پہنچتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام کو جب بھی کسی آفت کا سامنا ہوا ان کی نگاہیں سب سے پہلے پاک فوج کی جانب اٹھتی ہیں اور پاک فوج عوام کے لیے مسیحا بن جاتی ہے۔ہمیں اپنی پاک افواج اور سیکیورٹی فورسز پر فخر ہے جن کی قربانیوں سے دشمن ہماری ارض پاک پر میلی آنکھ ڈالنے اور کھْل کر وار کرنے کی ہمت نہیں کر رہا ہے۔ ہمارے پاک فوج کے جوانوں کے غیر متزلزل ارادے، پختہ عزم، بلند حوصلوں کو دیکھ کر یقین ہے کہ وہ دن دور نہیں جب دشمن پردے کے پیچھے سے بھی حملہ آور ہونے کی طاقت نہیں رکھے گا۔پاک فوج کے جوانوں کی جگ رتوں کے باعث ہی قوم میٹھی نیند سوتی ہے۔’’پاک فوج کا نصب العین‘‘ ایمان، تقویٰ اورجہاد فی سبیل اللہ‘‘ ہے۔اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت سے لیس پاک فوج ہی پاکستان کی ریڈ لائن ہے۔افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے افراد ملک و قوم کے دشمن ہیں۔