میاں نوازشریف موجودہ نظام حکومت کے تسلسل سے متفق

حکومت کا ٹارگٹ معیشت، خارجہ پالیسی اوراستحکام ہے، :وزیردفاع خواجہ آصف
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میاں نوازشریف موجودہ نظام حکومت کے تسلسل سے بالکل متفق ہیں،  سیاسی نظریات پر عمل کا وقت آگے پیچھے ہوسکتا ہے، یہ کہنا غلط ہے کہ نوازشریف نظریات سے الگ ہوگئے، ہماری سمت کا تعین ہوچکا ہے ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مری کی میٹنگ میں تسلسل سے کوئی بات نہیں ہوئی۔میاں نوازشریف موجودہ نظام حکومت کے تسلسل سے بالکل متفق ہیں، اس وقت ووٹ کو عزت دوکی نہیں بلکہ اس وقت گورننس کی بات کرتے ہیں، میڈیا کو ان باتوں کا نہیں پتا ان کو یہ بھی نہیں پتا کہ میٹنگ میں کون کون موجود تھا، سیاسی نظریات کو عملی شکل میں لانے کا وقت آگے پیچھے ہوسکتا ہے، لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ نوازشریف نظریات سے الگ ہوگئے ہیں۔اس وقت ایک چیز چاہے وہ معاشی صورتحال ہے ، ڈپلومیسی ہے یا پھر جنگی صورتحال ہے کامیابی سے چل رہی ہے۔ نوازشریف حکومت کی تیسری مدت کا اختتام جس طرح ہوا وہ ایک طے شدہ ایجنڈا تھا، اس میں جس طرح چیزیں ٹھیک ہورہی تھیں، سڑکیں بن رہی تھیں، سی پیک ، ایکسچینج ریٹ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کو مینیج کرتے رہتے تو میاں نوازشریف پانچ سال وزیراعظم رہتے اور آج پاکستان میں سیاسی صورتحال مختلف ہوتی۔حکومت کا ٹارگٹ اس وقت ملک کا معاشی ، خارجہ پالیسی استحکام ہے، اور بھارت کے ساتھ معاملہ ہمارا ٹارگٹ ہے۔  ہم ماضی کی طرح صورتحال کو پید انہیں کرنا چاہتے، ہماری سمت کا تعین ہوچکا ہے ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ شام کو شہبازشریف سے بات ہوئی ان کو میری بات پر اعتراض کرنے دیں۔