وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پولیو سے پاک پاکستان کا حصول ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم حکومت کا عزم اور حوصلہ اس چیلنج سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
صوبوں اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے ملک سے پولیو کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت انسدادِ پولیو سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں پولیو کی صورتحال، حالیہ کیسز اور وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہمات کی کامیاب انعقاد کے لیے فرنٹ لائن پولیو ورکرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محنت، عزم اور خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہمات کے دوران فرنٹ لائن ورکرز کی مسلسل رسائی اور ان کی سکیورٹی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ملک بھر میں معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج مزید بہتر بنائی جائے، بالخصوص پولیو سے متاثرہ اور وائرس کے حوالے سے تشویش کا شکار علاقوں میں بچوں کو حفاظتی قطرے اور ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے سکیورٹی کے حوالے سے حساس اور دشوار گزار علاقوں میں انسدادِ پولیو مہمات کے لیے رسائی میں نمایاں بہتری کو قابلِ تحسین قرار دیا، تاہم ملک میں سامنے آنے والے حالیہ پولیو کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وائرس کے خاتمے کے لیے پہلے سے زیادہ مؤثر حکمت عملی اور بھرپور جدوجہد کی ضرورت ہے۔
چاروں صوبوں کے دورے اور ایک ہفتے میں مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیر، وزیر مملکت، سیکریٹری قومی صحت اور انسدادِ پولیو ٹیم کے اراکین کو فوری طور پر چاروں صوبوں کے دورے کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکریٹریز سے ملاقاتیں کریں اور باہمی مشاورت کے بعد ایک ہفتے کے اندر انسدادِ پولیو کے لیے مربوط لائحہ عمل تیار کیا جائے۔وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مشترکہ کوششوں کے ذریعے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں گی۔
رواں سال ملک میں پولیو کیسز کی تعداد 9 ہوگئی
اجلاس کو ملک میں حالیہ پولیو کیسز اور انسدادِ پولیو کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسی روز ضلع خیبر سے پولیو کا ایک نیا کیس سامنے آیا ہے، جس کے بعد رواں سال پاکستان میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 9 ہوگئی ہے۔بریفنگ کے مطابق 2026 کے دوران خیبر پختونخوا میں ضلع خیبر سے 3، بنوں سے 3 اور شمالی وزیرستان سے ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا۔ ضلع خیبر سے سامنے آنے والے تمام کیسز کا تعلق افغانستان میں موجود پولیو وائرس سے بتایا گیا ہے۔سندھ میں رواں سال کراچی شرقی اور سجاول سے ایک، ایک پولیو کیس سامنے آیا، جس کے بعد صوبے میں کیسز کی تعداد 2 ہوگئی ہے۔ حکام کے مطابق افغانستان سے پاکستان آنے جانے والے افراد کی نقل و حرکت ملک میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔
پنجاب اور بلوچستان میں نئے کیسز رپورٹ نہیں ہوئے
اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب میں فروری 2025 کے بعد سے پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، جبکہ بلوچستان میں بھی 2025 اور 2026 کے دوران پولیو کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔اسی طرح آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان پہلے ہی پولیو سے پاک ہیں۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ رواں سال سندھ کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مقدار میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔حکام نے بتایا کہ انسدادِ پولیو ٹیموں کی سکیورٹی بہتر بنانے اور خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں ان کی رسائی آسان بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزرا اور متعلقہ حکام کی اجلاس میں شرکت
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ شریک ہوئے۔اس کے علاوہ وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو سینیٹر عائشہ رضا فاروق اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔