ہالی ووڈ کی معروف فلم ’لوگن‘ سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ ڈیفنی کین نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں محض 11 سے 13 سال کی عمر میں فلمی تقریبات اور پارٹیوں کے دوران منشیات کی پیشکش کی جاتی تھی، تاہم انہوں نے ہمیشہ ایسی پیشکشوں کو مسترد کیا۔
21 سالہ اداکارہ نے پوڈکاسٹ ’انسائیڈ آف یو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے اپنے کم عمری کے فلمی تجربات سے پردہ اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہالی ووڈ میں کم عمری میں کام شروع کرنے کے بعد انہیں ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے انہیں شراب اور منشیات سے دور رہنے کا فیصلہ کرنے میں مدد دی۔ڈیفنی کین کے مطابق فلم کی شوٹنگ مکمل ہونے کے بعد منعقد ہونے والی پارٹیوں میں انہیں کوکین کی پیشکش کی جاتی تھی۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً 11 سے 13 سال تھی، لیکن انہوں نے کبھی اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔اداکارہ نے بتایا کہ وہ آج بھی شراب اور منشیات سے مکمل طور پر دور ہیں۔ دوستوں کے ساتھ تقریبات میں شرکت کے باوجود وہ کسی قسم کا نشہ نہیں کرتیں اور اپنی اس روش پر قائم ہیں۔
ہیو جیک مین کو والد جیسی شخصیت قرار دے دیا
گفتگو کے دوران ڈیفنی کین نے فلم ’لوگن‘ میں اپنے ساتھی اداکار ہیو جیک مین کے کردار اور رویے کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیو جیک مین ان کے لیے والد جیسی شخصیت تھے اور فلم کی شوٹنگ کے دوران ان کی دیکھ بھال کا خاص خیال رکھتے تھے۔اداکارہ کے مطابق ہیو جیک مین اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ سیٹ پر ان سے مقررہ اوقات سے زیادہ کام نہ لیا جائے اور انہیں کسی قسم کے دباؤ یا ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ڈیفنی کین نے انہیں نہایت شفیق، خیال رکھنے والا اور حفاظت کرنے والا ساتھی قرار دیا۔ ان کے بقول، کم عمری میں فلمی صنعت کے ماحول میں ہیو جیک مین کا یہ رویہ ان کے لیے بہت اہمیت رکھتا تھا۔