اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ کمپلیکس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما عمر ایوب نے بنوں کینٹ اور بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کی اور انہیں انٹیلیجنس ایجنسیوں کی ناکامی قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایجنسیوں کے افسران کا کورٹ مارشل کیا جائے۔
حکومت اور اداروں پر کڑی تنقید
عمر ایوب نے کہا کہ ملک میں گورننس نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی، اور موجودہ حکمران "پکے کے ڈاکو" بن گئے ہیں، جو کچے کے ڈاکوؤں سے بھی نہیں لڑ سکتے۔ انہوں نے روپے کی قدر میں گراوٹ اور معیشت کی تباہی کا ذمہ دار موجودہ حکومت کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کا ایکسچینج ریٹ 165 روپے مقرر کیا گیا تھا، لیکن قرضوں کی ادائیگی 265 روپے میں ہوئی، جس سے عوام پر 400 ارب روپے کا بوجھ پڑا۔
تحریک انصاف کی قیادت پر مقدمات اور گرفتاریوں پر احتجاج
انہوں نے کہا کہ آئین و قانون کی بالادستی ضروری ہے اور یہی پی ٹی آئی کا مؤقف ہے، لیکن بانی پی ٹی آئی عمران خان، بشریٰ بی بی، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر رہنما پابند سلاسل ہیں، جبکہ پارٹی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
حکومت سے براہ راست ٹکراؤ
عمر ایوب نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اپوزیشن کے سامنے بیٹھنے کی ہمت نہیں رکھتے، جبکہ محسن نقوی دو منٹ کے لیے قومی اسمبلی آئے اور پھر بھاگ گئے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نااہل ہے اور دہشت گردی پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
اداروں پر سنگین الزامات
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ انٹیلیجنس ادارے صرف پی ٹی آئی کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں، یہ ایجنسیاں لوگوں کو لاپتا کر رہی ہیں اور ہمارے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہیں، جبکہ پنجاب اور اسلام آباد پولیس بھتہ خوری میں ملوث ہو چکی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں دہشت گردی تقریباً ختم ہو چکی تھی، لیکن موجودہ حکومت کی ناکامی کے باعث ملک دوبارہ دہشت گردوں کے نشانے پر آ گیا ہے۔