امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف تعاون پر حکومتِ پاکستان سے اظہارِ تشکر کیا ہے۔
کانگریس سے اپنے پہلے اور طویل ترین خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ انتہا پسند دہشت گردی کے خلاف ہیں اور انہیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ افغانستان میں ایک اہم دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔امریکی صدر نے اس کامیابی میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا، "میں حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ اس دہشت گرد کی گرفتاری میں مدد فراہم کی۔" انہوں نے مزید کہا کہ ساڑھے تین سال قبل داعش نے 13 امریکیوں کو افغانستان میں قتل کیا تھا، اور اب افغانستان میں امریکیوں کو ہلاک کرنے والا مجرم امریکا منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ وہ قانون کا سامنا کر سکے۔
اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، اسے "انتہائی شرمناک" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ امریکا کی عالمی پوزیشن اور سکیورٹی پالیسی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ خطاب امریکی تاریخ کے طویل ترین صدارتی خطابات میں شامل ہو گیا، جو ایک گھنٹہ 39 منٹ اور 31 سیکنڈ پر محیط تھا۔ اس سے قبل 1993 میں سابق صدر بل کلنٹن نے ایک گھنٹہ 5 منٹ کا خطاب کیا تھا، جو اُس وقت کا ریکارڈ تھا۔