سابق بھارتی آرمی چیف کی کتاب پر تنازع، راہول کو گفتگو سے روک دیا گیا

نئی دہلی(آئی این پی ) بھارت کی پارلیمنٹ میں راہول گاندھی کی تقریر کے دوران سابق آرمی چیف جنرل منوج مکند نراوانے کی کتاب کا تذکرہ کرنے پر حکومتی اراکین بھڑک اٹھے اور راہول گاندھی کو بات کرنے سے روک دیا۔ یہ کتاب سابق آرمی چیف کے فوجی کیریئر کے تجربات اور بھارت کی دفاعی حکمت عملی کے تجزیے پر مشتمل ہے، تاہم بھارتی وزارتِ دفاع نے اس کتاب کی اشاعت پر پابندی عائد رکھی ہے۔بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ کے اجلاس میں  اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کی تقریر کے دوران ایوان کا سیاسی ماحول کشیدگی کا شکار ہوگیا، جس کے بعد بھارت میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ایوان اس وقت ہنگامہ آرائی کا شکار ہوا جب اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے سابق آرمی چیف جنرل منوج نراوانے کی آپ بیتی سے اقتباسات کو پڑھنا شروع کیا۔ جس پر حکومتی اراکین نے شور شرابا شروع کر دیا اور راہول گاندھی کو کتاب پر گفتگو سے منع کیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق راہول گاندھی نے تقریر کے دوران بھارت کی دفاعی تیاریوں پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک میگزین کے آرٹیکل کا حوالہ دیا تھا، جس میں جنرل نراوانے کی کتاب کے اقتباسات شائع ہوئے ہیں۔اس آرٹیکل کے مطابق 2020 میں جب لداخ میں بھارت اور چین کی سرحد پر کشیدگی کے دوران جب دونوں ملکوں کے فوجی دستے آمنے سامنے آگئے تھے، تو اسی دوران اطلاع موصول ہوئی کہ چینی ٹینک بھارتی فوج کی پوزیشنز کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔ تاہم آرمی چیف نے اِس معاملے پر حکومت سے واضح احکامات طلب کیے تو سیاسی قیادت نے پورا معاملہ فوج پر ڈال دیا۔راہول گاندھی نے جیسے ہی یہ اقتباسات پڑھنا شروع کیے تو ایوان میں شدید ہنگامہ شروع ہوگیا، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیرِ داخلہ امیت شاہ فورا نشستوں سے کھڑے ہوئے اور اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے اعتراض کیا کہ ایوان کے قواعد کے تحت کسی ایسی کتاب یا تحریر کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا جو ابھی شائع ہی نہیں ہوئی۔ اس شور شرابے کے باعث راہول گاندھی مزید گفتگو نہ کرسکے۔اسپیکر نے بھی پارلیمانی قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے راہول گاندھی کو گفتگو سے روک دیا جس پر اپوزیشن ارکان نے سخت احتجاج کیا۔