سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ پر جاری بمباری فوراً بند کرے تاکہ محصور فلسطینیوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی بحفاظت رہائی ممکن ہو سکے۔
ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ حماس کی جانب سے اس کے امن منصوبے کے کچھ حصے قبول کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تنظیم پائیدار امن کے قیام کے لیے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ موقع صرف غزہ ہی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں برسوں سے مطلوب امن کے قیام کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور ثالثی کرنے والے ممالک کو چاہیے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لائیں اور مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار کریں۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اس موقع کو ضائع کیا گیا تو نتائج تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حماس نے ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے بعض حصے قبول کیے ہیں، تاہم اس نے ’بورڈ آف پیس‘ کے نام سے مجوزہ عالمی نگرانی کے نظام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔