میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حامد خان نے کہا کہ ہم نے چھبیسویں ترمیم کو قبول نہیں کیا، اس لیے 27ویں ترمیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ کون کروارہا ہے، سب کو معلوم ہے، باقی سب تو صرف کھلونے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جس کے پاس طاقت ہوتی ہے، اسی کے بارے میں بات کی جاتی ہے۔ آزاد کشمیر میں گولیاں برسنے کے واقعے کو زیادتی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں حکومت کی تبدیلی کے پیچھے کیا مقصد ہے، یہ خدا جانے۔ ان کا خیال ہے کہ دونوں جماعتوں کو بٹھا کر 27ویں ترمیم پاس کروانے کا منصوبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ شاہ محمود قریشی سے ملے وہ بھاگے ہوئے اور بھگوڑے ہیں، اور جو پی ٹی آئی چھوڑ کر گئے ہیں، انہیں کوئی حق نہیں کہ وہ پارٹی کے بارے میں بات کریں۔یہ لوگ پی ٹی آئی کے غدار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی کی بھی شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی کوئی اہمیت نہیں، اور مطالبہ کیا کہ چھبیسویں ترمیم واپس لی جائے تاکہ آئین کے مطابق ملک چلایا جا سکے۔ حامد خان نے واضح کیا کہ ہم کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں چاہتے اور عدلیہ سے ریلیف چاہتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ کی بے بسی کی وجہ سے چھبیسویں ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں عدالتوں سے امید نہیں، لیکن کوشش جاری رکھیں گے۔ 27ویں ترمیم کے حوالے سے کسی سے بھی اصولی بات چیت کے لیے تیار ہیں اور بتایا کہ ہم نے پہلے مولانا فضل الرحمن سے بھی بات کی ہے۔ جو کوئی بھی ستائیسویں ترمیم کی مخالفت کرے گا، ہم اس کے ساتھ ہیں۔