پنجاب اسمبلی :عمران خان کے خلاف نازیباالفاظ پر ہنگامہ، اجلاس ملتوی کرنا پڑا

لاہور(خصوصی رپورٹ)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے 3 بار کورم کی نشاندہی کی،اسمبلی میں مسودہ قانون ترمیم مالیات، پنجاب 2025ء، ترمیم انفورسمنٹ اینڈ ریگولیشنز پنجاب 2025ء اوردی پنجاب ٹورازم اینڈ ہیریٹیج اتھارٹی بل 2025ء سمیت چار قوانین منظور کر لئے گئے۔ اجلاس میں عمران خان کے خلاف نازیبا الفاظ کہنے پر شدید ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی اور شور شرابا پر سپیکر کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ بیالیس منٹ کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا،اجلاس کے آغاز پر سپیکر ملک محمد احمد خان کی ہدایت پر سیکرٹری جنرل چوہدری عامر حبیب نے پنجاب اسمبلی کے34ویں اجلاس کے لئے 6پینل آف چیئر پرسن کے ناموں کااعلان کردیا۔جن میں سمیع اللہ خان، افتخار چھچھر، بلال یامین، ارشد ملک، شوکت راجہ اور ذوالفقار علی شاہ شامل ہیں۔وقفہ سوالات کے آغاز پر سپیکر ملک محمد احمد خان وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی عدم موجودگی پرسخت برہمی کا اظہارکرتے کہا کہ وزیر ہائیر ایجوکیشن کی بنیادی ذمہ داری ایوان میں موجود ہونا ہے،سپیکر نے وزیر برائے ہائر ایجوکیشن کی اسمبلی میں عدم دلچسپی پر وزیر اعلیٰ کو خط بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی،اپوزیشن رکن اعجاز شفیع کے بولنے پر ن لیگ کے رکن اسمبلی احسن خان اور چیف وہپ رانا محمد ارشد نے تقریر شروع کردی، حکومتی ارکان رانا ارشد طارق گل اور ملک وحید نے اپوزیشن کے لیڈروں پر الزامات لگانے شروع کردیئے ، جواب میں اپوزیشن رہنمائوں کی جانب سے چور چور کے نعرے لگائے گئے ،احسن رضا کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا ایجنڈا صرف ایک نشئی کو جیل سے رہائی ہے وہ ایک مصدقہ چور ہے،پی ٹی آئی والوں کو ریاست اور ملک سے کوئی دلچسپی نہیں انہیں چاہیے یہ اسمبلیوں سے استعفی ٰدیں اور سڑکوں پر جائیں