28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں کلیدی تنصیبات اور قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے بعد عالمی گولڈ مارکیٹ میں غیر معمولی ہلچل دیکھنے میں آئی، اور سونے کی قیمت 5,400 ڈالر فی اونس کی نفسیاتی حد عبور کر گئی۔
پیر 2 مارچ کو عالمی منڈی کھلتے ہی سونے کی قیمت میں 2 سے 3 فیصد تک فوری اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسپاٹ گولڈ 5,400 ڈالر سے تجاوز کر گیا جبکہ بعض فیوچر ٹریڈز میں قیمت 5,500 ڈالر تک دیکھی گئی۔ چیئرمین آل پاکستان جیولرز مینوفیکچرز ایسوسی ایشن محمد ارشد کے مطابق ایشیائی منڈیوں میں بھی سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔جنگی خدشات گہرے ہوتے ہی سرمایہ کاروں نے اسٹاک مارکیٹس اور دیگر پرخطر اثاثوں سے سرمایہ نکال کر سونے میں منتقل کرنا شروع کر دیا۔ ماہرین کے مطابق جغرافیائی سیاسی غیر یقینی کی صورتحال میں سونا محفوظ ترین سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں 13 فیصد تک اضافے نے عالمی سطح پر مہنگائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں، جس سے سونے کی قیمتوں کو مزید تقویت ملی ہے۔
آل پاکستان گولڈ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین حمزہ شکارپوری کا کہنا ہے کہ تہران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصوں میں فضائی حدود کی بندش اور بحیرہ عرب میں کشیدگی کے باعث سونے کی طبعی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ Dubai جو عالمی سونے کی تجارت کا بڑا مرکز ہے، وہاں سے ترسیل میں تاخیر کے باعث مقامی منڈیوں میں قلت اور مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔انہوں نے پیشگوئی کی کہ اگر تنازع طول پکڑتا ہے اور ایران کی جانب سے مزید جوابی کارروائیاں ہوتی ہیں تو سونا 2026 کے اختتام تک 6,000 سے 6,300 ڈالر فی اونس تک جا سکتا ہے۔ Strait of Hormuz کی ممکنہ بندش عالمی معیشت کے لیے بلیک سوان ثابت ہو سکتی ہے، جو سونے کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں ریکارڈ اضافے کے بعد سونے کی قیمت میں بڑی کمی بھی دیکھنے میں آئی۔ فی تولہ سونا 13,900 روپے جبکہ 10 گرام سونا 11,917 روپے سستا ہو گیا۔محمد ارشد کے مطابق 2026 کے پہلے ہفتے میں عالمی منڈی میں سونا 5,580 ڈالر فی اونس تک ٹریڈ ہوا اور پاکستان میں قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 570,000 روپے فی تولہ تک جا پہنچی، تاہم دوسرے ہفتے میں تقریباً 800 ڈالر فی اونس کمی کے بعد پاکستان میں سونا 504,500 روپے فی تولہ تک گر گیا۔اتنے شدید اتار چڑھاؤ سے جیولرز اور مینوفیکچررز متاثر ہوئے، فروخت میں کمی کے باعث کاروبار سست روی کا شکار رہا۔2026 میں چاندی کی عالمی پوزیشن بھی مستحکم رہی اور قیمت پہلی بار 120 ڈالر فی اونس تک پہنچی، جبکہ پاکستان میں چاندی 17,000 روپے فی تولہ تک جا پہنچی۔ بعد ازاں مندی کے رجحان کے باعث سرمایہ کاروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ماہرین اس وقت عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ کے پیش نظر سرمایہ کاروں کو محتاط حکمت عملی اپنانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔