انتظامیہ میں خواتین کا کردار

صائمہ ممتاز
انتظامیہ میں خواتین کا کردار بہت اہم اور فیصلہ کن ہے۔خواتین نہ صرف انتظامی امور میں فعال حصہ لیتی ہیں بلکہ ان کی قیادت اور مہارت تنظیموں کو کامیابی کی راہوں پر گامزن کرتی ہے۔ خواتین اپنے مخصوص نکتہ نظر ، ہمدردی اور مسائل کے حل کیلئے نئے طریقے اپنانے کی صلاحیت کی بدولت انتظامیہ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں خواتین کی شراکت انتظامی سطح پر نہ صرف کام کے ماحول کو متوازن اور بہتر بناتی ہے بلکہ مختلف مسائل کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ انتظامیہ میں خواتین کے کردار کے موضوع پر ایک خاتون سے زیادہ بہتر بات کون کر سکتا ہے اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے مولانا ظفر علی خان فاونڈیشن کی 18 جنوری 2025 کی ہفتہ وار نشست کی مقررہ ڈاکٹر کرن خورشید جو کہ ڈی جی مانیٹرنگ اینڈ ایو یلیوشن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ ہیں، نے فاونڈیشن کے چیئر مین خالد محمود کی زیر صدارت اپنی ملازمت سے تعلق رکھنے والے مختلف تجربات اور مشاہدات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ ان کی باتوں سے سامعین نے اس بات کا بخوبی اندازہ لگا لیا کہ وہ اپنے کام میں  کس قدر مخلص ، پر عزم اور کامیاب رہی ہیں انہیں اس کام میں تقریبًا بیس سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے اور اس دوران انہوں نے مختلف حوالوں سے مختلف پوزیشنز پر کام کیا۔ آغاز میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فیصل آباد رہیں۔ فیصل آباد میں چونکہ بہت زیادہ سرکاری زمینیں ہیں وہاں پر قبضہ مافیا پر بہت کام ہوتا ہے فیلڈ جاب میں کافی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا سیاسی مشکلات بھی ساتھ ساتھ رہیں لیکن جو حکمت عملی بنائی گئی اور اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے ہمیشہ سے یہ کوشش رہی کہ ہر ایک کو انصاف ملنا چاہئے ہمیشہ میرٹ پر کام کیا اسی دوران ان کی پروموشن بھی ہوئی۔ فیصل آباد کے تمام بڑے بازاروں سے تجاوزات کا خاتمہ کر کے سڑکوں کو اتنا کھلا کر دیا کہ جہاں پیدل گزرنا مشکل تھا وہاں سے گاڑی بھی آسانی سے گزرنے لگی۔۔۔۔۔۔عدالتی نظام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں فیصلوں پر عمل درآمد کروانے کے لئے عمر خضر درکار ہے اور یہ نسل در نسل چلتے رہتے ہیں ان کے پیچھے بہت سی وجوہات ہیں لیکن میں نے جب سے انتظامات سنبھالے تھے میرا مطمہْ نظر یہی رہا تھا کہ لوگوں کو رلیف پہنچایا جائے بجائے اس کے کہ یہ سوچا جائے کہ کسی طرح بس وقت نکالا جائے اور ہمارا آج کا دن بس اچھا گزر جائے اور اس ضمن میں سیاستدانوں کو خوش کرنے کے طریقے اپناے جائیں۔۔ کام کر نظر انداز کرنا اور صرف وقت گزرنا بھی ایک ہنر ہے اور خوش قسمتی سے میں نے یہ ہنر نہیں سیکھا ہم نے گورنمنٹ سے ایک معاہدہ کیا ہوتا ہے اور یہ ہمارا کوئی بزنس نہیں ہوتا بلکہ ملازمت ہوتی ہے ہر جگہ اچھے برے پہلو پائے جاتے ہیں انسان بہت دباؤ کا شکار بھی رہتا ہے اسے اچھے کام کرنے کے عوض دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں لیکن اگر ارادے پختہ ہوں ، نیت صاف ہو اور دل میں یہ عہد ہو کہ ہم نے ہر حال میں لوگوں کو سہولت مہیا کرنی ہے اور ان کے کام کرنے ہیں تو اللہ کی مدد بھی شامل حال رہتی ہے اور کسی سے کسی قسم کا نقصان بھی نہیں پہنچتا اور کامیابیاں بھی نصیب ہوتی ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ موقعہ پر جا کر کیس ملاحضہ کرتے ہوئے کام کی تحقیقات کرنے کے بعد فیصلے کئے جو کہ بہت بہترین ثابت ہویْ اس کی وجہ یہ ہے کہ عدالت کے بیانات اور حقیقت میں موقعہ ملاحضہ کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
فیصل آباد کے بعد ڈاکٹر کرن خورشید شیخوپورہ میں پہلی خاتون ڈپٹی کمشنر بنیں جس کا دورانیہ ایک سال اور دس ماہ ہے اس وقت خواتین کو ڈپٹی کمشنر بھرتی نہیں کیا جاتا تھا اور خیال یہ کیا جاتا تھا کہ خواتین یہ امور احسن طریقے سے سر انجام نہیں دے سکیں گی۔یہ تصور زیادہ تر پاکستان میں پایا جاتا تھا جبکہ انڈیا اور بنگلہ دیش میں خواتین انتظامی امور سنبھالے ہوئے تھیں۔ ڈاکٹر کرن خورشید اس حوالے سے بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئیں اور ان کے بعد بہت سی خواتین کو یہ ذمہ داریاں سونپی گئیں۔۔
کچھ تلخ حقائق بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرٹ پر کام کرنا آسان نہیں ہوتا اور بہت سی پارٹیاں آپ کے مخالف ہو جاتی ہیں اور ایسے حالات کا سامنا کرتے ہوئے وہ ہمیشہ اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑی رہیں اور کہا کہ اگر میرا ایک نائب قاصد بھی فیلڈ میں جاتا ہے تو وہ سمجھیں کہ یا تو وہ میں خود ہوں یا پھر گورنمنٹ ہے۔ ان کے سٹاف پر حملہ بھی ہوا۔۔۔۔وکلاء کی کارکردگی سے انہوں نے غیر تسلی بخش روئیے کا اظہار کیا لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا کہ تمام لوگ ایک جیسے بھی نہیں ہوتے۔۔۔وہ اپنا کیس خود تیار کرکے عدالت جاتی ہیں اور مکمل طور پر وکلاء￿  پر انحصار نہیں کرتیں اسی طرح بہت سے مسائل حل کرواے اس وقت ثاقب نثار سپریم کورٹ میں ہوتے تھے ہر مسْلے کو ذاتی نکتہ نظر کی بجا? حقائق کی بنیاد پر ڈسکس کیا یہی وجہ ہے کہ جب بھی اوپن کورٹ میں پیش ہوئیں ثاقب نثار نے ان کی تعریف کی۔۔۔۔ڈاکٹر کرن خورشید نے خواتین کی تعلیم پر بہت زور دیا کیونکہ خواتین ہماری آبادی کا پچاس فیصد ہیں اور کسی صورت بھی مردوں سے کم نہیں۔ اتنی زیادہ تعداد میں خواتین گھروں میں بے کار رہیں گی تو یہ ملک کی معیشت پر بھی بھاری نقصان ہو گا اور اس طرح سے گھریلو لڑائی جھگڑے بھی بڑھیں گے انہیں کسی نہ کسی فیلڈ میں ضرور اپنی  صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے مواقع ضرور ملنے چاہئے۔والدین کو بیٹے اور بیٹی میں فرق نہیں کرنا چاہئے بلکہ دونوں کو یکساں تعلیم دلوانی چاہئے اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بیٹیاں بیٹوں سے زیادہ کامیابیاں حاصل کرتی ہیں اس موقع پر انہوں نے بڑی خوبصورت مثال دی کہ 
"بیٹے اس وقت تک بیٹے ہوتے ہیں جب تک ان کی شادی نہیں ہو جاتی اور بیٹیاں آخری سانس تک بیٹیاں ہی رہتی ہیں" یعنی والدین کی فرمانبردار رہتی ہیں۔۔۔۔۔بیٹیوں کو کوئی ہنر ضرور سکھانا چاہئے کہ جس کی وجہ سے وہ معاشرے میں ایک مقام حاصل کر سکیں اور محتاجی سے بچی رہیں۔گو کہ خواتین کی ذمہ داریاں مردوں سے زیادہ ہوتی ہیں انہیں باہر کے معاملات کے ساتھ ساتھ امور خانہ داری پر بھی توجہ دینی ہوتی ہے اور بچوں کی دیکھ بھال کا فریضہ بھی سر انجام دینا ہوتا ہے معاشرہ اس ضمن میں اپنا کردار اس طریقے سے ادا کر سکتا ہے کہ وہ ان کے لئے مشکلات پیدا نہ کرے اور عورت کی عزت اور مان کا اسی طرح خیال رکھے جس طرح اپنی ماں اور بیٹی کی عزت کا خیال رکھا جاتا ہے ان کے کپڑوں اور نجی زندگی پر تنقید نہ کریں اگر آپ دوسروں کی ماں بہن کی عزت کریں گے تو آپ کی اپنی ماں بہن اور بیٹی کو  بھی عزت ملے گی ملازمت کرنے والی خواتین کو گھریلو ذمہ داریوں سے لاپرواہی کا احساس دلایا جاتا ہے مثال کے طور پر اگر کسی ملازمت پیشہ خاتون کے گھر میں کوئی مسْلہ پیش آجائے تو بجائے  ہمدردی کے اس کے لئے یہ طعنہ بنا لیا جاتا ہے کہ وہ خود تو ملازمت کرتی ہے ایسا تو ہونا ہی تھا۔