بھارتی ٹی وی انڈسٹری کی اداکارہ شلپا شندے نے اپنے ماضی کے ایک بڑے تنازعے پر برسوں بعد حیران کن اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈراما سیریل “بھابی جی گھر پر ہیں” کے پروڈیوسر سنجے کوہلی کے خلاف دائر کیا گیا جنسی ہراسانی کا مقدمہ حقیقت پر مبنی نہیں تھا۔
یہ انکشاف انہوں نے حال ہی میں کامیڈین بھارتی سنگھ اور ہرش لمباچیا کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران کیا، جہاں انہوں نے اس معاملے پر پہلی بار کھل کر بات کی۔شلپا شندے کے مطابق اس وقت ان کے اور پروڈکشن ٹیم کے درمیان ادائیگیوں اور معاہدے سے متعلق شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات اس حد تک بگڑ گئے تھے کہ انہیں اپنے حقوق کے حصول کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنا پڑا، جس کے دوران ہراسانی کا مقدمہ بھی دائر کیا گیا۔
اداکارہ نے اپنے بیان میں واضح طور پر تسلیم کیا کہ یہ الزام درست نہیں تھا۔ ان کے مطابق بعد میں دونوں فریقین کے درمیان معاملہ عدالت سے باہر طے پا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی بقایا ادائیگیاں بھی ادا کر دی گئیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ وقت کے ساتھ صورتحال بہتر ہوئی ہے اور اب ان کے سنجے کوہلی کے ساتھ تعلقات معمول پر آ چکے ہیں۔ شلپا شندے کے مطابق وہ دوبارہ پروڈکشن ٹیم کے ساتھ کام بھی کر رہی ہیں اور پرانی تلخیاں ختم ہو چکی ہیں۔
یاد رہے کہ 2016 میں شلپا شندے کی مقبول ڈراما “بھابی جی گھر پر ہیں” سے علیحدگی اور اس کے بعد سامنے آنے والا ہراسانی کا مقدمہ بھارتی ٹی وی انڈسٹری میں خاصا بڑا تنازع بنا تھا، جس پر طویل عرصے تک میڈیا اور شوبز حلقوں میں بحث جاری رہی۔ اب ان کے اس نئے بیان نے اس پرانے کیس کو ایک بار پھر موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔