سردار حیدر احمد علی
ڈی چوک سے لے کر ایوانِ صدر تک، ہر عمارت جیسے کسی انجانے خوف میں لپٹی ہوئی ہے۔ وزارتِ خزانہ کے کمروں میں رات گئے تک روشنیاں جلتی ہیں، فائلیں کھلتی ہیں، بند ہوتی ہیں، اور پھر کھلتی ہیں۔ ٹی وی اسکرینوں پر بیٹھے ماہرینِ معیشت اعداد و شمار کے ایسے جنگل اگاتے ہیں کہ عام آدمی کو اپنی خالی جیب مزید خالی محسوس ہونے لگتی ہے۔بجٹ پاکستان میں صرف معاشی دستاویز نہیں، یہ ایک نفسیاتی کیفیت بھی ہییہ وہ موسم ہے جب تنخواہ دار آدمی اپنے بچوں کی فیسیں گننے لگتا ہے، دکاندار نئی قیمتوں کے ٹیگ چھپواتا ہے، اور متوسط طبقہ اپنی خواہشات کا پوسٹ مارٹم شروع کر دیتا ہے۔
کل ایک رکشہ ڈرائیور ملا۔کہنے لگا:‘‘صاحب! ہر سال بجٹ آتا ہے، مگر میرے گھر کا چولہا چھوٹا ہوتا جاتا ہے۔’’
میں نے پوچھا:
‘‘تمہیں بجٹ سے کیا امید ہوتی ہے؟’’
وہ ہنس پڑا۔ ایسی ہنسی جو شاید رونے سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔
بولا:
‘‘امید؟ غریب آدمی امید نہیں کرتا، صرف ڈرتا ہے۔’’
پاکستان کا بجٹ دراصل خوف کی دستاویز بن چکا ہے۔
وہ خوف جو پٹرول پمپ پر گاڑی کی ٹینکی فل کرواتے وقت محسوس ہوتا ہے۔
وہ خوف جو یوٹیلیٹی بل کھولتے وقت دل میں اترتا ہے۔
وہ خوف جو ماں کو دودھ خریدتے ہوئے اور باپ کو اسکول کی فیس جمع کرواتے ہوئے گھیر لیتا ہے۔
وزیرِ خزانہ جب اسمبلی میں بجٹ تقریر پڑھتے ہیں تو حکومتی بنچ ڈیسک بجاتے ہیں، اپوزیشن شور مچاتی ہے، مگر اس سارے شور میں ایک آواز کہیں دب جاتی ہے… عوام کی آواز۔
یہ ملک عجیب تضاد میں زندہ ہے۔
یہاں ایوانوں میں خسارے پر تقریریں ہوتی ہیں اور باہر شادی ہالوں میں کروڑوں کی آتش بازی چلتی ہے۔
یہاں ریاست کہتی ہے کہ حالات مشکل ہیں، مگر سرکاری پروٹوکول پہلے سے زیادہ لمبے ہوتے جا رہے ہیں۔
یہاں قوم کو کفایت شعاری کا درس دیا جاتا ہے، مگر اقتدار کے ایئر کنڈیشنر کبھی بند نہیں ہوتے۔
مجھے ہمیشہ لگتا ہے کہ پاکستان کا بجٹ دو ملکوں کے لیے بنتا ہے۔
ایک وہ پاکستان جو ایوانوں، بیوروکریسی اور اشرافیہ کا ہے۔
اور دوسرا وہ پاکستان جو رکشہ چلاتا ہے، فصل اگاتا ہے، موٹر سائیکل پر دو بچوں کو بٹھا کر روزگار ڈھونڈتا ہے۔
پہلے پاکستان کے لیے بجٹ ‘‘پلاننگ’’ ہے۔
دوسرے پاکستان کے لیے ‘‘قیامت’’۔
اس بار بھی کہا جا رہا ہے کہ معیشت سنبھل رہی ہے۔
ڈالر قابو میں ہے۔
اسٹاک مارکیٹ خوش ہے۔
آئی ایم ایف مطمئن ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عوام بھی مطمئن ہیں؟
کیونکہ معیشت صرف گراف کا نام نہیں۔
معیشت اس احساس کا نام ہے جب آدمی بازار سے واپس آ کر بیوی سے نظریں نہ ملا سکے۔
معیشت اس اذیت کا نام ہے جب باپ بچے کی فرمائش سن کر خاموش ہو جائے۔
معیشت صرف شرحِ نمو نہیں، شرحِ بے بسی بھی ہوتی ہے۔
ایک سینئر سیاستدان سے ملاقات ہوئی۔
کہنے لگے:
‘‘ملک مشکل فیصلوں کے بغیر نہیں چل سکتا۔’’
میں نے عرض کیا:
‘‘جناب! مشکل فیصلے ہمیشہ غریب کے لیے ہی کیوں ہوتے ہیں؟’’
وہ خاموش ہو گئے۔
اور پاکستان میں خاموشی اکثر سب سے بڑا جواب ہوتی ہے۔
اس ملک میں ٹیکس دینے والا ہمیشہ وہی طبقہ بنتا ہے جو سب سے کمزور ہے۔
تنخواہ دار طبقہ، چھوٹا تاجر، کسان، مزدور۔
جبکہ بڑے بڑے شعبے، طاقتور ہاتھ اور مقدس گائیں اکثر بچ نکلتی ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی بجٹ ایسا آیا ہو جس کے بعد عوام نے سکھ کا سانس لیا ہو۔
ہر بجٹ کے بعد صرف دو چیزیں بڑھتی ہیں:
مہنگائی… اور حکومتی دعوے۔
سیاستدان کہتے ہیں کہ قربانی دینا ہوگی۔
عوام پوچھتے ہیں:
‘‘ہم نے آخر بچایا کیا ہے جو اب قربان کریں؟’’
بجٹ سے پہلے حکمران عوام کے پاس جاتے ہیں۔
بجٹ کے بعد عوام دعاؤں کے پاس چلے جاتے ہیں۔
کبھی کبھی لگتا ہے کہ اس ملک کی اصل اپوزیشن مہنگائی ہے۔
وہ ہر حکومت کو بے نقاب کر دیتی ہے۔
وہ ہر تقریر کا میک اپ اتار دیتی ہے۔
وہ ہر نعرے کی حقیقت سامنے لے آتی ہے۔
اسلام آباد کے پوش سیکٹروں میں شاید بجٹ صرف ایک خبر ہو، مگر اندرونِ سندھ، جنوبی پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے چھوٹے شہروں میں بجٹ زندگی اور موت کا سوال بن جاتا ہے۔
ایک استاد نے بتایا کہ اس کے بچے نے نئے جوتے مانگے۔
وہ خاموش رہا۔
بیٹے نے پوچھا:
‘‘ابو! کیا بجٹ آ گیا ہے؟’’
یہ سوال نہیں، پورے نظام پر طنز تھا۔
پاکستانی قوم عجیب قوم ہے۔
یہ مہنگائی پر بھی زندہ رہ لیتی ہے، لوڈشیڈنگ میں بھی مسکرا لیتی ہے، بحرانوں میں بھی امید کا چراغ جلائے رکھتی ہے۔
مگر ریاست شاید اس قوم کی برداشت کو اس کی کمزوری سمجھ بیٹھی ہے۔
بجٹ تقریروں میں اکثر ایک لفظ بار بار سنائی دیتا ہے:
‘‘ریلیف’’
مگر عوام اب جان چکے ہیں کہ ہمارے ہاں ریلیف ہمیشہ تقریروں میں ملتا ہے، زندگی میں نہیں۔
اور پھر بجٹ پاس ہو جاتا ہے۔
حکومتی ارکان ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں۔
ٹی وی اینکر اگلے بحران کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔
مگر ایک عام آدمی اپنی جیب ٹٹولتا ہے، آسمان کی طرف دیکھتا ہے، اور خاموشی سے اگلے مہینے کی فکر شروع کر دیتا ہے۔
پاکستان شاید ایٹمی طاقت بن گیا ہے، مگر اس کے شہری آج بھی آٹے، بجلی، گیس اور دوائی کے حساب میں الجھے ہوئے ہیں۔
یہ بجٹ بھی گزر جائے گا۔
تقریریں بھی ختم ہو جائیں گی۔
اعداد و شمار بھی بدل جائیں گے۔
لیکن اگر اس ملک کے عام آدمی کے چہرے سے خوف ختم نہ ہوا تو پھر ہر بجٹ صرف کاغذ کا پلندہ رہے گا، امید کی دستاویز نہیں۔
اور اسلام آباد کی بند گلیوں میں پھر اگلے سال یہی سرگوشی سنائی دے گی:
‘‘بجٹ آ رہا ہے…
اپنی خواہشیں کم کر لو۔