سوال یہ ہے!

تصور حسین شہزاد
پنجاب میں نیا ترمیمی موٹروہیکلز آرڈیننس نافذ کردیا گیا ہے۔ یہ بظاہر اچھی بات لگ رہی ہے، کہ پنجاب میں روڈز پر ڈسپلن قائم کرنے کیلئے نئے جرمانوں کی شرح نافذ کی گئی ہے۔ یہ صرف جرمانوں کا نفاذ نہیں، بلکہ بنیادی طور پر پورا کمپری ہنسیو پلان ہے۔ جس کے تحت پورے پنجاب میں نصب سیف سٹی کیمروں کو فعال کردیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں رورل ایریاز اور شہری علاقے بھی ان کی رینج میں ہیں۔ ان کیمروں کے ذریعے کہیں بھی ٹریفک قوانین کی کوئی خلاف ورزی ہوگی تو انہیں ای چالان بھیجا جائے گا۔ چالان کیساتھ جرمانوں کی شرح اتنی زیادہ بڑھا دی گئی ہے کہ یہ شرح عام آدمی کی آمدن سے بھی زیادہ ہے۔ پہلے موٹرسائیکل پر ٹرپل سواری پر300 روپے کا چالان ہوتا تھا، اب ٹرپل سواری پر2000 روپے چالان ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ ٹرپل سواری کیوں کی جاتی ہے؟ ظاہر ہے ٹرانسپورٹ کی سہولیات مناسب نہ ہونے کی وجہ سے مجبوراً ایسا کرنا پڑتا ہے۔ دیہاتوں سے، گاؤں سے جب لوگوں نے شہروں کو آنا ہوتا ہے تو ان کی مجبوری ہوتی ہے، ایک بائیک چلانے والا اپنے ساتھ دو افراد کو بٹھا لیتا ہے۔ یہ ٹرپل سواری اس لئے کی جاتی ہے کہ ٹرانسپورٹ میسر نہیں۔ سوال یہ ہے کہ حکومت نے ٹرانسپورٹ کے مسئلے کے حل کیلئے کوئی اقدام کیا ہے؟ کیا دیہی علاقوں سے ایسی کوئی ٹرانسپورٹ کی سہولت دی گئی ہے؟ اگر ایسی سہولت دی گئی ہے تو پھر تو جرمانے بہت اچھی بات ہیں، اور اگر ایسی کوئی سہولت نہیں دی گئی تو پھر جرمانے ناجائز اور غیرقانونی ہیں۔ پھر ہم مزید دیکھتے ہیں کہ انڈر ایج ڈرائیورز کو پہلے جرمانہ 200 روپے تھا۔ اس کو اب بڑھا کر 2000 ہزار روپے کردیا گیا ہے، یہ موٹرسائیکل کے جرمانے ہیں۔ غریب نے کمیٹیاں ڈال کر، یا ہزاروں روپے جوڑ کر ایک موٹرسائیکل لی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ درست ہے، کسی بھی انڈرایج کو موٹرسائیکل چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے اور اس کیلئے یہ پابندی درست ہے، لیکن جرمانے کی شرح ایسا معاملہ ہے، جس پر ڈی بیٹ کی جا سکتی ہے۔ کیا آپ نے لوگوں کی آمدن میں بھی ایسا ہی اضافہ کیا ہے؟ اگر آپ نے 200 والا چالان 2000 کر دیا ہے، تو کیا اتنا اضافہ اْس آدمی کی آمدن میں بھی کیا گیا ہے؟؟ تو جواب نہیں میں ہے۔ آپ کہتے ہیں انڈر ایج کا موٹر سائیکل چلانا جرم ہے، تو پھر اس کا بْھوکا رہنا جرم کیوں نہیں؟ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ آئین اور قانون پر عملدرآمد ہونا چاہئے اور شہری ذمہ دار ہونے کا ثبوت دیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ صرف شہری ہی ذمہ دار ہیں؟ ریاست ذمہ دار نہیں؟ ریاست کہتی ہے انڈر ایج بچہ موٹرسائیکل نہ چلائے، لیکن ریاست یہ نہیں دیکتھی کہ بچہ کس مجبوری کے تحت موٹر سائیکل چلا رہا ہے۔ کیا اس مجبوری کے حل کیلئے ریاست نے کوئی اقدام کیا ہے؟ ایک انڈرایج بچہ جو ورکشاپ اور ہوٹلوں سے لیکر کھیتوں اور فیکٹریوں تک مزدوری کرتا ہے، کبھی ریاست نے اس کی بھی ذمہ داری لی ہے کہ انڈرایج بچہ کیوں مشقت کر رہا ہے؟ آپ اس کا جواب دیں گے کہ ہاں چائلڈ لیبر کا قانون موجود ہے، تو اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا؟ وہ بچہ بھوکا ہے، اس کے گھر میں ایک وقت کا کھانا نہیں، جس کا کوئی کفیل نہیں، وہ مجبوری کی حالت میں مشقت کرنے پر مجبور ہے۔ یہاں ریاست اپنی ذمہ داری کیوں پوری نہیں کر رہی؟ اگر شہریوں کی ضروریات گھر میں پوری ہوں تو کبھی نابالغ بچہ مزدوری نہ کرے۔ وہ مزدوری 
کی بجائے سکول میں تعلیم حاصل کر رہا ہو۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں ’’آئوٹ آف سکول‘‘ بچوں کی تعداد کافی ہے لیکن پنجاب میں سب سے زیادہ ہیں۔ ان بچوں کو تو سکول میں ہونا چاہیئے تھا، ان بچوں کو سکول کس نے لے کر جانا تھا؟ ریاست نے۔ ان کی تعلیم کا ذمہ دار کون ہے؟ ریاست ہے۔ مگر ریاست اپنی ذمہ داری نہیں نبھا رہی۔ یہاں ایسا قانون بنا دیا گیا ہے کہ مقدمہ درج کرکے آپ اپنی آنیوالی نسل کو کریمنل بنا رہے ہیں۔ جس بچے نے ملازمت کرنی ہے، باہر جانا ہے، اس کا مستقبل تو تاریک ہو گیا۔ ان پر تو مقدمہ درج ہو جائے گا، تو ان کا تو کریکٹر ایک کریمنل کی طور پر ثبت ہو جائے گا۔ ہر شہری کا کریمینل ریکارڈ بنانا بہت بڑی خیانت ہے۔ سوال صرف حکومت کیلئے نہیں ریاست کیلئے ہے، کہ ای چالان اور سیف سٹی سے کوئی شہری بچ نہیں سکتا، لیکن سوال یہ ہے کہ دہشت گرد اور امن دشمن کیوں بچ جاتے ہیں؟ ان کو کیوں نہیں پکڑا جاتا؟۔ زیرو ٹالرنس دہشت گردوں، چوروں، ڈکیتوں کیخلاف کیوں نہیں؟ اگر یہی صورتحال رہی تو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ جرائم پیشہ عناصر کی آماجگاہ ہوگا، کہ پنجاب میں ہر شہری ایف آئی آر زدہ ہوگا۔ بطور صحافی یہ ریاست سے سوال کروں گا، کہ درست ہے کہ آپ لوگوں کو ڈسپلن میں لانا چاہتے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے انفراسٹرکچر اتنا ڈویلپ کر دیا ہے؟ کیا یہاں سڑکیں عالمی معیار کی ہیں؟ یہاں لائن اور لین کا معاملہ حل ہو چکا ہے؟ کیا آپ کو پتہ ہے کہ سپیڈ بریکر جو بنایا جاتا ہے، اس کی قواعد و ضوابط کیا ہے؟ کیٹ آئیز کہاں لگی ہیں، ریفلیکٹرز کہاں ہیں؟؟ کیا ہر سڑک پر روڈ ڈیوائیڈر ہیں؟ کیا پورے پنجاب میں یہ بنیادی روڈ ضروریات دیدی گئی ہیں؟ بالکل نہیں۔ کہیں بھی ایسا نہیں کیا گیا۔ یہ نئے قوانین نافذ کرنے سے قبل آپ نے کوئی آگاہی مہم چلائی ہے؟ شہریوں کو بتایا ہے کہ اگر یہ خلاف ورزی ہوئی تو اتنا جرمانہ ہوگا؟ کس قانون کی خلاف ورزی پر قید، کس کی خلاف ورزی پر جرمانہ ہوگا؟ یہ بتایا گیا ہے؟؟ شہریوں کی بنیادی مشکلات کو حل کر دیا گیا ہے؟؟ اگر یہ بچہ مجرم ہے تو ریاست اس سے بھی بڑی مجرم ہے، جس نے بنیادی ضرورتیں پوری نہیں کیں۔ تعلیم ہے نہ صحت کی سہولتیں، ہسپتال سارے پرائیویٹائز کردیئے گئے ہیں۔ سکول بھی نجی ملکیت میں دیدیئے گئے ہیں۔ اب لوگوں کیلئے معاشرے میں ایک ہائیپ کری ایٹ کر دی گئی ہے۔ لوگ ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں، جن سے اخراجات پورے نہیں ہوتے انہیں دو دو ہزار جرمانے کئے جا رہے ہیں۔ راقم ایک ایسے شخص سے ملا، جس کی ایک دن کی آمدن ایک ہزار روپے تھی، اسے 2000 کا چالان ٹکٹ تھما دیا گیا۔ وہ یہ دوہزار کہاں سے ادا کرے گا؟ یقیناً اس کیلئے وہ غیرقانونی اقدام کرے گا، چوری کرے گا یا ڈاکہ ڈالے گا؟ کیا ریاست اس شخص کے بارے بتا سکتی ہے کہ اس نے اس کی ذمہ داری کہاں تک پوری کی؟؟ اس کی کفالت ریاست کی ذمہ داری ہے، ریاست شہریوں کو ریلیف کی بجائے  مسلسل تکلیف دیئے جا رہی ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بہتری یا ڈسپلن نہیں، بلکہ صرف اور صرف فنڈز کولیکشن ہے۔