ملیرجیل:مفرور قیدیوں میں سے90دوبارہ گرفتار

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)ملیرجیل سے گزشتہ رات فرار ہونے والے 216 قیدیوں میں سے 78 قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ا?ئی جی جیل خانہ جات علی حسن زرداری کا کہنا ہے کہ 138 کی تلاش جاری ہے جبکہ قیدیوں کی گرفتاری کے لیے شہر بھر میں ناکہ بندی، سرچ ا?پریشن اور انٹیلی جنس نگرانی کی جارہی ہے،فرار ہونے والے قیدی منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ہیں جبکہ کچھ سٹریٹ کرمنل بھی شامل ہیں۔ ادھر سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ جیل بریک سنجیدہ واقعہ ہے،ا?ئی جی جیل، ڈی ا?ئی جی جیل، سپرنٹنڈنٹ جیل اور ان کی سربراہی میں کام کرنے والوں کو معطل کر دیا ہے۔شرجیل میمن نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات کیلئے کمشنر کراچی اور ایڈیشنل ا?ئی جی کی سربراہی میں 2 رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے، کمیٹی انکوائری کر کے وزیراعلیٰ سندھ کو ا?گاہ کرے گی۔شرجیل میمن نے کہا کہ 24 گھنٹے کے اندر تمام قیدی خود کو سرینڈر کریں، جو قیدی 24 گھنٹے کے اندر رضاکارانہ طور پر واپس ا?جاتے ہیں ان کے خلاف کوئی انکوائری نہیں ہوگی، جو قیدی واپس نہ ا?ئے ان پر جیل توڑنے کی سزا 7سال قید لگے گی۔ جیل سے قیدی فرار ہونے والا معاملہ دہشتگردی سے منسلک نہیں تھا، زلزلے کے بعد یہ صورتحال پیدا ہوئی، انکوائری رپورٹ سے پہلے ہی جج نہیں بننا چاہتا، انکوائری رپورٹ آجائے پھر سب سامنے ا?جائے گا۔دوسری جانب واقعہ کے بعد جیل انتظامیہ کی جانب سکیورٹی کو مزید سخت کردیا گیا جیل کے اندر اور باہر پولیس،رینجرز،ایف سی اور ایس ایس یو کی اضافی نفری تعینات کردی گئی۔علاوہ ازیں جیل سپرنٹنڈنٹ ارشد شاہ نے بی بی سی کی جانب سے غفلت برتنے کے سوال کے جواب میں ایسی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جیل کے عملے کی طرف سے کوئی غفلت نہیں برتی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات جو کچھ بھی ہوا وہ ایک ’’ناگہانی ا?فت‘‘کے سبب ہوا۔جیل دروازے پر تعینات پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جب قیدیوں نے باہر نکلنے کی کوشش کی تو سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں روکنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تھی اور دروازے پر موجود نشانات اْن ہی گولیوں کے ہیں۔ دروازے سے اندر داخلی راستے پر جگہ جگہ ٹوٹے ہوئے شیشے، چپلیں اور خون کے دھبے موجود تھیجبکہ قیدیوں کی ان کے اہلخانہ سے ملاقات کے لیے بنائے گئے کمرے میں لگے ٹیلی فون، کھڑکیاں اور فرنیچر بھی ٹوٹا ہوا تھا، اسی مقام سے چند قدم کے فاصلے پر جیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے کی کھڑکیوں اور دروازے پر لگے شیشے بھی کرچی کرچی تھے۔اندرونی دروازے پر موجود پولیس اہلکار نے بتایا کہ اس دروازے پر سینکڑوں کی تعداد میں قیدی جمع ہو گئے تھے اور انہوں نے دھکے مار مار کر دروازے کا کْنڈا توڑ دیاتھا۔قیدیوں نے وہ دروازہ توڑا جو اس مقام کے قریب واقع تھا جہاں قیدیوں اور ان کے اہلخانہ کی ملاقاتیں کرائی جاتی ہیں،وہاں توڑ پھوڑ کے بعد کچھ قیدی رْک گئے مگر باقی ا?گے بڑھتے ہوئے مرکزی گیٹ تک جا پہنچے، ہوائی فائرنگ کے باوجود قیدی جیل کا مرکزی گیٹ بھی عبور کر گئے۔جیل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ پورے دن وقفے وقفے سے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے اور قیدی بھی ڈرے ہوئے تھے۔ رات کے تقریباً گیارہ بجے زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے تو قیدیوں نے شور مچانا شروع کر دیا، مرکزی میدان میں جمع ہونے والے قیدیوں کی تعداد ایک سے ڈیڑھ ہزار سے تجاوز کرگئی تھی اور وہ خوف و ہراس کا شکار تھے،اسی دوران چند قیدیوں نے  آگے بڑھنے کی کوشش کی اور افراتفری کا ماحول بن گیا۔ جیل حکام نے تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب ہونے والی افراتفری اور فائرنگ کے نتیجے میں ایک قیدی ہلاک جبکہ دو پولیس اہلکار اور دو ایف سی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔