عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر تنقید کی اور کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بدتر ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کرم میں امن معاہدے کے باوجود ڈپٹی کمشنر پر حملہ ایک سنگین واقعہ ہے، جس کی مذمت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کچھ قوتیں کرم میں امن قائم نہیں ہونے دینا چاہتی ہیں۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کا فوکس اڈیالہ جیل میں قید افراد پر زیادہ ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کے عوام کے مسائل پر کم توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کو دو ماہ میں ایک مرتبہ بھی کرم جانے کی توفیق نہیں ہوئی، جبکہ مریم نواز کو پنجاب میں بیٹھ کر پاراچنار کے لوگوں کی فکر ہے۔
صوبائی وزیر نے تحریک انصاف کے دور حکومت میں خیبرپختونخوا کے عوام کی زندگی کے معیار میں کمی کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ 12 سال سے اقتدار میں موجود تحریک انصاف نے پشتونوں کو احساس محرومی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ان کے مطابق، صوبے کے بنیادی مسائل میں امن و امان، دہشت گردی اور بیروزگاری شامل ہیں جن پر تحریک انصاف کو کوئی توجہ نہیں دی گئی۔