13 سالہ بچے نے سمندر میں 4 گھنٹے تیر کر اپنے خاندان کی زندگی بچالی

تیز ہوائوں نے چھوٹی تنگ کشتی ، پیڈل بورڈ کو سمندر کے پانی کی جانب دھکیل دیا
 خاندان کو 14 کلومیٹر دور دریافت کیا گیا،گھنٹوں پبھرے سمندر کا سامنا کرتے رہے
 بچہ 4 گھنٹوں تک تیر کر ساحل پر پہنچا، فون تک پہنچنے کیلئے 2 کلومیٹر تک تیزی سے بھاگا'
کینبرا(آئی این پی ) مغربی  آسٹریلیا  میں   ایک 13 سالہ بچے نے  بپھرے ہوئے سمندر میں 4 گھنٹوں تک تیر کر اپنی ماں، چھوٹی بہن اور چھوٹے بھائی کی زندگی بچالی۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق مغربی آسٹریلیا کے علاقے قوئنڈالوپ میں یہ خاندان چھٹیاں منا رہا تھا جب تیز ہوائوں نے ان کی چھوٹی تنگ کشتی اور ہوا سے بھرے پیڈل بورڈ کو سمندر کے گہرے پانی کی جانب دھکیل دیا۔13 سالہ بچے نے کشتی کو واپس ساحل پر لے جانے کی کوشش کی تاکہ مدد حاصل کرسکے مگر وہ ڈوب گئی اور بچے کو ساحل کی جانب 4 کلومیٹر تک تیر کر جانا پڑا۔  بچے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 4 گھنٹوں تک تیر کر ساحل پر پہنچا اور پھر مدد طلب کرنے کے لئے  وہاں بھاگنے لگا۔اس نے بتایا کہ 'میں سمندر میں بریسٹ اسٹروک، فری اسٹائل اور تیراکی کے دیگر طریقوں کے ذریعے ساحل پر پہنچا اور وہاں گرگیا، اس کے بعد میں فون تک پہنچنے کے لیے 2 کلومیٹر تک تیزی سے بھاگا'۔ مغربی آسٹریلیا کی پولیس کو اس بارے میں رپورٹ مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے موصول ہوئی کہ ایک خاندان سمندر میں بہہ گیا ہے۔اس کے بعد اس خاندان کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن شروع ہوا۔47 سالہ خاتون، 12 سالہ لڑکے اور 8 سالہ بچی کو ایک ریسکیو ہیلی کاپٹر نے شام ساڑھے 8 بجے ڈھونڈا۔اس کے بعد ایک امدادی جہاز اس لوکیشن پر پہنچا اور ان تینوں کو بحفاظت بچا کر لے آیا۔مقامی میرین ریسکیو کمانڈر پال بریسلینڈ نے بتایا کہ اس خاندان کو ساحل سے 14 کلومیٹر دور دریافت کیا گیا اور گھنٹوں تک پبھرے سمندر کا سامنا کرتے رہے۔انہوں نے کہا کہ 13 سالہ بچے کی بہادری کے باعث ہم اس کے خاندان کو بچانے میں کامیاب ہوئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس بچے نے 2 گھنٹے تک لائف جیکٹ میں تیراکی کی اور پھر اسے اتار کر 2 گھنٹے تک تیر کر ساحل پر پہنچا۔