روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے امریکی ایلچی وٹکوف اور دیگر جیرڈکشنرز کے ساتھ ملاقات کو کارآمد قرار دیا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس ملاقات کے دوران امریکی تجاویز پر کچھ نکات پر اختلافات بھی سامنے آئے، لیکن یہ بات قبل از وقت ہے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ پیوٹن نے یہ بھی بتایا کہ ملاقات ضروری تھی تاکہ دونوں فریقین اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔صدر پیوٹن نے مزید کہا کہ یوکرین کے معاملے کا حل تلاش کرنا ایک مشکل کام ہے، اور روس ڈونباس کے علاقے پر فوجی ذرائع یا کسی اور طریقے سے کنٹرول حاصل کرنے کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یورپ کو چاہیے کہ وہ یوکرین تنازع کے حل میں رکاوٹ بننے کے بجائے اس میں فعال کردار ادا کرے، تاکہ اس خطے میں امن قائم ہو سکے۔
پیچھے کے حالات میں، یہ بیان اس تناظر میں سامنے آیا ہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان یوکرین کے مسئلے پر مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، اور دونوں فریقین کے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع کے حل کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ پیوٹن کا یہ بھی کہنا ہے کہ روس اپنی فوجی طاقت کا استعمال یا دیگر ذرائع سے کنٹرول حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو کہ خطے کے سیاسی حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔