ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کرکٹرز کی نئی رینکنگ سامنے

ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کرکٹرز کی نئی رینکنگ سامنے

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کرکٹرز کی تازہ ترین رینکنگ جاری کر دی ہے، جس میں کئی کھلاڑیوں نے اپنی پوزیشنز میں قابل ذکر ترقی یا تنزلی دیکھی۔

ٹی ٹوئنٹی بیٹرز:

بھارت کے ابھیشک شرما پہلی پوزیشن برقرار رکھتے ہیں۔
افغانستان کے ابراہیم زدران 12 درجے ترقی کے بعد 20 ویں نمبر پر پہنچ گئے۔
پاکستان کے بابر اعظم اور محمد رضوان بالترتیب 21 ویں اور 22 ویں نمبر پر آ گئے۔
پاکستان کے کپتان سلمان آغا 18 درجے ترقی کے بعد 59 ویں نمبر پر براجمان ہیں۔
یو اے ای کے محمد وسیم 5 درجے ترقی کے بعد 26 ویں نمبر پر پہنچ گئے، جبکہ حسن نواز 32 ویں نمبر پر آئے اور صائم ایوب 40 ویں نمبر پر چلے گئے۔
ٹی ٹوئنٹی بولرز:

نیوزی لینڈ کے جیکب ڈفی پہلی پوزیشن برقرار رکھتے ہیں۔
پاکستان کے صفیان مقیم 11 درجے ترقی کے بعد 22 ویں نمبر پر ہیں،
شاہین آفریدی 26 ویں اور حارث رؤف 28 ویں نمبر پر ہیں، جبکہ محمد نواز 43 ویں نمبر پر پہنچ گئے۔
افغانستان کے محمد نبی اور نور احمد نے بالترتیب 54 ویں اور 73 ویں پوزیشن حاصل کی۔
ٹی ٹوئنٹی آل راؤنڈرز:

بھارت کے ہاردک پانڈیا پہلی پوزیشن برقرار۔
افغانستان کے محمد نبی دوسری پوزیشن پر، صائم ایوب 14 ویں، راشد خان 16 ویں اور پاکستان کے محمد نواز 21 ویں نمبر پر براجمان ہیں۔
ون ڈے بیٹرز:

بھارت کے شبمن گل پہلی پوزیشن برقرار رکھتے ہیں۔
سری لنکا کے پاتھم نشانکا 7 درجے ترقی کے بعد 13 ویں نمبر،
جنوبی افریقہ کے رسی ون ڈر ڈوسن 18 ویں اور ایڈن مارکرم 20 ویں نمبر پر ہیں۔
انگلینڈ کے بین ڈکٹ 21 ویں اور زمبابوے کے سکندر رضا 22 ویں نمبر پر پہنچ گئے۔
زمبابوے کے بین کرن نے 71 درجے ترقی کے بعد 90 ویں نمبر حاصل کیا۔
ون ڈے بولرز:

جنوبی افریقہ کے کیشو مہاراج پہلی پوزیشن برقرار،
انگلینڈ کے جوفرا آرچر 19 ویں،
جنوبی افریقہ کے لونگی نگیدی 24 ویں نمبر پر براجمان ہیں۔
ون ڈے آل راؤنڈر:

زمبابوے کے سکندر رضا نمبر ون آل راؤنڈر بن گئے۔
افغانستان کے عظمت اللہ عمرزئی دوسرے اور محمد نبی تیسرے نمبر پر ہیں۔
نیوزی لینڈ کے مچل سینٹنر چھٹے اور افغانستان کے راشد خان ساتویں نمبر پر ہیں، جبکہ شین ولیمز 16 ویں نمبر پر پہنچ گئے۔
آئی سی سی کی اس رینکنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی کرکٹ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی میں نمایاں اتار چڑھاؤ جاری ہے، خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کے کھلاڑیوں کی پوزیشنز میں بہتری دیکھی گئی ہے۔