ہنوئی: ویتنام نے اپنے 80 ویں یومِ آزادی کے موقع پر ملکی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی پریڈ کا انعقاد کیا، جس میں جدید فوجی سازوسامان اور بین الاقوامی دستوں کی نمائش کی گئی۔
دارالحکومت ہنوئی کی سڑکوں پر لاکھوں شہری پریڈ دیکھنے کے لیے جمع ہوئے، بیشتر سرخ شرٹس پہنے اور قومی پرچم تھامے ہوئے تھے۔پریڈ میں روسی ساختہ Mi-171 ہیلی کاپٹرز، سخوئی Su-30 لڑاکا طیارے اور مقامی طور پر تیار کردہ ڈرونز بھی دکھائے گئے۔ ہزاروں ویتنامی فوجیوں کے علاوہ چین، روس اور دیگر ممالک کے دستے بھی شریک ہوئے۔ سمندر میں منعقدہ علیحدہ تقریب میں روسی آبدوزوں اور فریگیٹس کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔
یومِ آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں حکومت نے اعلان کیا کہ ملک کے 10 کروڑ شہریوں میں سے ہر ایک کو ایک لاکھ ویتنام ڈونگ (تقریباً 3.80 امریکی ڈالر) دیے جائیں گے، جس پر مجموعی طور پر تقریباً 380 ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔ویتنام کے صدر لیونگ کوانگ نے عام معافی کا بھی اعلان کیا، جس کے تحت 13,920 قیدیوں کو قبل از وقت رہا کیا جائے گا۔تاریخی پس منظر میں بتایا گیا کہ 2 ستمبر 1945 کو اسی مقام پر انقلابی رہنما ہو چی منہ نے فرانس کے تسلط سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔