اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) اسلام آباد کی عدالت نے 16 سالہ میٹرک کے طالبعلم کو ہراساں کرنے اور اس کی نازیبا ویڈیو بنانے کے مقدمے میں مرکزی مجرم اجہ حارث نوید کو مجموعی طور پر سات سال قید بامشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے پیکا ایکٹ کے تحت سائبر کرائم کے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ جرمانے کی عدم ادائیگی پر مجرم کو مزید چھ ماہ قید بامشقت بھگتنا ہوگی، جبکہ شریک ملزم شاہزیب معراج کے خلاف جرم میں معاونت کا الزام ثابت نہ ہونے پر اسے شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا گیا۔ مقدمے کے مطابق مرکزی ملزم نے دھوکے سے 16 سالہ طالبعلم کو ڈرائنگ روم میں بند کیا اور گن پوائنٹ پر اسے ہراساں کرتے ہوئے اس کی مرضی کے بغیر نازیبا ویڈیو ریکارڈ کی۔ واقعے کے بعد متاثرہ طالبعلم اور اس کے اہل خانہ کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ فریق کی مدعیت میں پیکا ایکٹ اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے تفتیش مکمل کرکے چالان عدالت میں جمع کرایا، جہاں دورانِ سماعت استغاثہ نے مرکزی ملزم کے خلاف شواہد اور گواہان پیش کیے۔ عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سنا دیا۔