قومی مفادات کے تحفظ میں پاکستانی میڈیا کے ذمہ دارانہ کردار کو سراہا:وزیر اعظم

قومی مفادات کے تحفظ میں پاکستانی میڈیا کے ذمہ دارانہ کردار کو سراہا:وزیر اعظم

اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف نے آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر بالخصوص پاکستان کے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔

 اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے میڈیا کے قومی مفادات میں ادا کیے گئے ذمہ دارانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے بھارت کی خطے میں جنگ کی فضا پیدا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔وزیراعظم نے کہا کہ "ان بہادر صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جو اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران قربان ہو کر امر ہو گئے۔ ان کی قربانیاں تاریخ کا سنہری باب ہیں۔"شہباز شریف نے کہا کہ صحافت نے ہمیشہ حقائق کی فراہمی، شعور اجاگر کرنے اور عوام کو باخبر رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ماضی کی روایات سے لے کر جدید صحافت تک، میڈیا نے وقت اور معاشرے کے ساتھ ترقی کی ہے، اور کسی بھی دور میں میڈیا کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔"وزیراعظم نے کہا کہ آج کے دور میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی نے میڈیا کی افادیت اور اثر کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، تاہم میڈیا کو جھوٹ، فیک نیوز، پروپیگنڈے، غیر ملکی ایجنڈوں اور سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔انہوں نے خاص طور پر اس بات پر روشنی ڈالی کہ "7 اکتوبر 2023 سے 3 مئی 2025 تک کا دور صحافیوں کے لیے اکیسویں صدی کا سب سے خونی دور ثابت ہوا ہے۔" وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ذمہ دار میڈیا آئندہ بھی قومی و عوامی مفادات کے تحفظ میں حکومت کی رہنمائی اور حمایت کرتا رہے گا۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کا آئین اظہار رائے کی آزادی کا ضامن ہے اور ان آزادیوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ "ہم نے ہمیشہ اہلِ صحافت کے ساتھ مل کر آزادی رائے اور شہری حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے، اور یہ کاوشیں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔"شہباز شریف نے مزید کہا کہ حکومت نے صحافیوں کی زندگی، صحت، مالی مفادات، اور ایک سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قانونی فورمز کے ذریعے صحافیوں کے حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، اور فیک نیوز کے خاتمے کے لیے میڈیا کی مشاورت سے قوانین تیار کیے گئے ہیں۔آخر میں وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت آئندہ بھی خلوص نیت سے اہلِ صحافت کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور اصلاحات کے اس عمل کو صحافی برادری کی تائید سے جاری رکھے گی۔