ترقی کا نیا در کھلنے کو ہے

 خواجہ خالد آفتاب 
   پاکستان کے شمالی علاقہ جات اپنے قدرتی حسن ، سیاحت ، آبی وسائل اور دوست ملک چین کے ساتھ زمینی رابطے کے باعث غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم گزشتہ کئی دہائیوں سے ان علاقوں تک رسائی دشوار، طویل اور موسمی رکاوٹوں کا شکار رہی ہے۔ ایسے میں وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں مانسہرہ، کاغان، ناران، جھاڑکھنڈ اور چلاس تک نئی چار رویہ موٹروے تعمیر کرنے کی منظوری دے کر قوم کو پیغام دیا ہے کہ پاکستان میں ترقی کاایک نیا دروازہ کھلنے والا ہے اور یہ ایک ایسے تاریخی منصوبے کی جانب پیش رفت ہے جو پاکستان کی تعمیر وترقی میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی جانب سے قومی شاہراہوں کی تعمیر اور دیکھ بھال کرنے والے ادارے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ہدایات دی گئی ہیں کہ منصوبے پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے اور اس کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ منصوبے کے تحت تقریباً 235 کلومیٹر طویل جدید شاہراہ تعمیر کی جائے گی جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوگی۔ 
یہ منصوبہ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ شمالی پاکستان کی معاشی، سیاحتی ، سماجی اور اقتصادی ترقی کا نیا باب ثابت ہوگا۔ اگر یہ منصوبہ مقررہ معیار اور رفتار کے ساتھ مکمل ہو جاتا ہے تو اس کے ثمرات آنے والی کئی دہائیوں اور نسلوں تک حاصل کیے جائیں گے۔
یہ نئی شاہراہ مانسہرہ سے شروع ہو کر کاغان، ناران، جھاڑکھنڈ اور آگے چلاس تک پہنچے گی۔ اس روٹ کو جدید موٹروے طرز کی سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ مقامی آبادی، سیاحوں اور تجارتی ٹریفک کو بہترین سفری سہولت میسر آ سکے۔
اس کے راستے میں جدید ریسٹ ایریاز قائم کیے جائیں گے تاکہ سیاح اور مسافر محفوظ اور آرام دہ سفر کر سکیں۔ وزیر مواصلات کا وڑن بہت واضح ہے کہ اگر ٹول وصول کیا جائے گا تو اس کے بدلے عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنا بھی ہماری ذمے داری ہوگی۔ 
سیاحت کے لیے گیم چینجر
وادی کاغان اور ناران پاکستان کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں لیکن تنگ سڑکیں، لینڈ سلائیڈنگ، ٹریفک جام اور سفری مشکلات ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتی ہیں۔
اس نئی موٹروے کی تعمیر کے بعد اسلام آباد سے ناران اور چلاس تک رسائی نہ صرف آسان ہوگی بلکہ سفر کا دورانیہ بھی نمایاں حد تک کم ہو جائے گا۔ اس سے ملکی اور غیر ملکی سیاحت کو زبردست فروغ ملے گا، ہوٹل انڈسٹری ترقی کرے گی اور ہزاروں نئی ملازمتیں اور کاروباری مواقع پیدا ہوں گے۔ 
یہ بات واضح ہے کہ شمالی علاقوں میں بہتر سڑکوں کا مطلب صرف سیاحوں کی آمد نہیں بلکہ سرمایہ کاری، کاروبار، ٹرانسپورٹ اور مقامی معیشت کا استحکام کا حصول بھی بڑا مقصد ہے۔ کیونکہ قراقرم ہائی وے کے متبادل اس منصوبے کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اسے مستقبل میں قراقرم ہائی وے کے متبادل روٹ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان مختلف مواقع پر پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ مانسہرہ، ناران، کاغان، بابوسر ٹاپ اور جالکھڈ کے ذریعے بننے والا یہ روٹ قراقرم ہائی وے پر دباؤ کم کرے گا اور سفری فاصلہ تقریباً 120 کلومیٹر تک کم ہو جائے گا۔ یہاں یہ پہلو خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ قراقرم ہائی وے پاکستان اور چین کے درمیان زمینی تجارت کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ متبادل راستہ دستیاب ہونے سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہوگا بلکہ ہنگامی حالات میں ٹرانسپورٹ کا نظام بھی زیادہ محفوظ اور مستحکم ہوگا۔
ہر آنے والے دن کے ساتھ سی پیک اور علاقائی تجارت ،
پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں شمالی علاقوں تک جدید شاہراہوں کی تعمیر سی پیک کے مستقبل کے لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
اگر ناران، بابوسر اور چلاس کا یہ جدید روٹ مکمل طور پر فعال ہو جاتا ہے تو یہ شمالی پاکستان کو ملک کے دیگر حصوں اور چین کے ساتھ مزید مؤثر انداز میں جوڑ سکے گا۔ اس کے نتیجے میں مال برداری کے اخراجات کم ہوں گے، وقت کی بچت ہوگی اور علاقائی تجارت کو نئی جہت ملے گی جبکہ یہ منصوبہ 
گلگت بلتستان کے لیے بھی خوش آئند ثابت ہو گا کیونکہ گلگت بلتستان کے عوام طویل عرصے سے بہتر زمینی رابطوں کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اپریل 2026 میں گلگت بلتستان کے گورنر اور وفاقی وزیر مواصلات کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بھی مانسہرہ، ناران، کاغان اور بابوسر ٹاپ سے جھاڑکھنڈ تک مجوزہ موٹروے منصوبے پر تفصیلی گفتگو ہوئی تھی۔ اس موقع پر بھی اسے خطے کے لیے "گیم چینجر" قرار دیا گیا تھا۔ 
اس منصوبے سے گلگت بلتستان کی سیاحت، تجارت، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں نمایاں بہتری آنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔
اس منصوبے کے قومی معیشت پر اثرات کیا ہوسکتے ہیں اس میں دنیا بھر کے تجربات ثابت کرتے ہیں کہ جدید شاہراہیں معاشی ترقی کی بنیاد بنتی ہیں۔ جب دور دراز علاقے قومی شاہراہوں سے جڑتے ہیں تو وہاں سرمایہ کاری بڑھتی ہے، جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور مقامی صنعتوں کو نئی منڈیاں میسر آتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہاں تہذیب خود بخود پہنچ جاتی ہے۔ بلاشبہ کاغان، ناران اور چلاس موٹروے منصوبہ بھی اسی نوعیت کا منصوبہ ہے جو ہزارہ ڈویڑن، گلگت بلتستان اور شمالی پاکستان کی مجموعی معیشت کو نئی رفتار دینے میں مدد گار ہو گا۔ اگرچہ یہ منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار بروقت تکمیل اور اعلیٰ معیار پر ہوگا۔ شمالی علاقوں کا دشوار گزار جغرافیہ، برف باری، لینڈ سلائیڈنگ اور ماحولیاتی تحفظ جیسے عوامل اس منصوبے کے لیے بڑے چیلنج ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ تعمیراتی کام میں بین الاقوامی معیار اپنایا جائے، ماحولیات کا تحفظ یقینی بنانے کی کوشش کی جائے اور مقامی آبادی کو بھی ترقی کے ثمرات میں شریک کیا جائے۔ یقیناً عبدالعلیم خان ایک دوراندیش شخصیت ہیں وہ ترقیاتی منصوبوں سے پہلے انسانی ترقی خوشحالی اور فلاح و بہبود کے بارے میں سوچتے ہیں۔
مانسہرہ، کاغان، ناران اور چلاس تک موٹروے کا یہ منصوبہ پاکستان کے شمالی علاقوں کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہو گا۔ یہ منصوبہ صرف ایک سڑک کی تعمیر نہیں بلکہ سیاحت، تجارت، قومی سلامتی، علاقائی رابطوں اور اقتصادی ترقی کا جامع وڑن ہے۔ گزشتہ روز وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں کیے گئے فیصلے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت شمالی پاکستان کو جدید مواصلاتی ڈھانچے سے آراستہ کرنے کے لیے نہایت سنجیدہ ہے۔ 
اگر یہ منصوبہ مقررہ وقت میں مکمل ہو جاتا ہے تو آنے والے برسوں میں ناران، کاغان اور چلاس صرف سیاحتی مقامات نہیں رہیں گے بلکہ ملکی معاشی ترقی اور علاقائی رابطہ کاری کے اہم مراکز بن جائیں گے، اور نہ صرف شمالی پاکستان حقیقی معنوں میں ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو جائے گا بلکہ یہ موٹر وے گوادر کی ترقی کے لیے بھی گیم چینجر بن جائے گا #