پلاسٹک بیگ پر پابندی کے حوالے سے پنجاب حکومت کی اقدامات

پلاسٹک بیگ پر پابندی کے حوالے سے پنجاب حکومت کی اقدامات

وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر پلاسٹک بیگ پر پابندی کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے محکمہ تحفظ ماحول نے سخت کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔

5 جون 2024 سے لے کر 2 جنوری 2025 تک، 40 ٹن غیر قانونی پلاسٹک بیگ ضبط کیے گئے ہیں۔

پلاسٹک کا ری سائیکلنگ اور استفادہ: ضبط شدہ پلاسٹک سے مختلف نوعیت کی مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں۔ لاہور اور فیصل آباد کے اسکولوں میں پرائمری کے بچوں کے لیے کرسیاں فراہم کی گئی ہیں، جب کہ لاہور کے ماڈل بازار میں بچوں کے لیے پلے ایریا بنایا گیا ہے۔ مزید برآں، ہسپتالوں میں بینچز اور حکومت کے دفاتر میں کرسیاں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔آئندہ دنوں میں اس پلاسٹک سے گٹروں کے ڈھکن بنائے جانے کا منصوبہ ہے، اس سلسلے میں سی اینڈ ڈبلیو اور لوکل گورنمنٹ کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔

راولپنڈی میں کارروائیاں: راولپنڈی میں 1754 کلوگرام پلاسٹک بیگ ضبط کیے گئے ہیں اور 85,000 روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، 75 مائیکرون سے کم حجم کے پلاسٹک بیگز کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

رجسٹریشن اور ماحولیاتی تحفظ: 41 ہول سیلرز اور پروڈیوسرز کی محکمہ تحفظ ماحول کے ساتھ رجسٹریشن مکمل کی گئی ہے۔ وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ پلاسٹک بیگ پر پابندی ماحولیاتی تحفظ کے لیے ضروری ہے اور عوام کو اس حوالے سے تعاون کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صاف اور صحت مند ماحول کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔یہ اقدامات پلاسٹک کے استعمال کو محدود کرنے اور ماحول کی حفاظت کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔