لیبیا کی عرب مسلح افواج کے نائب کمانڈر اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر کی قیادت میں اعلیٰ سطحی دفاعی وفد نے ایئر ہیڈکوارٹرز، اسلام آباد کا دورہ کیا جہاں وفد نے سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، بدلتی ہوئی علاقائی سلامتی کی صورتحال اور پاکستان و لیبیا کے درمیان دوطرفہ عسکری تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے پاکستان اور لیبیا کے مابین موجود گہرے مذہبی، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پاک فضائیہ کی اعلیٰ آپریشنل تیاری، جدت طرازی اور ملٹی ڈومین صلاحیتوں کی ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ خود انحصاری، جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور انسانی وسائل کی پیشہ ورانہ تربیت کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے۔ایئر چیف نے برادر فضائی افواج کے ساتھ پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تجربات اور بہترین عملی طریقۂ کار کے تبادلے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے لیبیا کی فضائیہ کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے پاک فضائیہ کی بھرپور معاونت کی یقین دہانی بھی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ تربیت اور تعاون خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔
ملاقات کے دوران لیبیائی وفد کو نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (NASTP) کے تحت پاک فضائیہ کے جاری اور مستقبل کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ یہ منصوبہ جدت، عوامی و نجی شراکت داری اور پاکستان میں ایک مضبوط، پائیدار اور خود انحصاری پر مبنی ایرو اسپیس ماحولیاتی نظام کی تشکیل کا مرکزی ستون ہے۔لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے اپنے اور اپنے وفد کے پرتپاک اور شاندار استقبال پر سربراہ پاک فضائیہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاک فضائیہ کے افسران اور جوانوں کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں، فضائی و زمینی عملے کے آپریشنل تجربے کو سراہتے ہوئے ان سے استفادہ حاصل کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے مشترکہ تربیتی پروگراموں، عسکری مشقوں اور پیشہ ورانہ تبادلوں کے ذریعے دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
ایئر ہیڈکوارٹرز میں لیبیائی دفاعی وفد کا یہ دورہ پاکستان اور لیبیا کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو دونوں برادر ممالک کے مابین باہمی اعتماد، تعاون اور دفاعی شراکت داری کے ایک نئے باب کی عکاسی کرتا ہے۔