وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پولیس اور سول انتظامیہ کے مشترکہ دربار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ لوگ سیاست میں کام نہ ہونے کے باوجود مداخلت کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات غیر معمولی ہیں کیونکہ خیبر پختونخوا گزشتہ 40 سال سے دہشت گردی کا نشانہ رہا ہے، اور پولیس نے کم وسائل کے باوجود 21 سال سے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کی ہے۔سہیل آفریدی نے دہشت گردی کے خلاف قربانیوں پر قوم کو فخر کا احساس دلایا اور کہا کہ جرات اور عزم سے دہشت گردوں کا مقابلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اللہ کی رضا اور عوام کے مفاد میں لڑیں گے تو فتح ہمارے ساتھ ہوگی، اور صوبے میں امن بحال کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بند کمروں میں فیصلے کرنے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔وزیراعلیٰ نے پولیس کو جدید سہولیات، بلٹ پروف گاڑیاں، جدید اسلحہ اور اینٹی ڈرون سسٹم فراہم کرنے کا اعلان کیا اور ہنگامی بنیادوں پر جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وسائل کی کمی کو سیکیورٹی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔ شہید سرکاری افسران کے خاندانوں کے لیے خصوصی پالیسی بنائی جائے گی، اور افسران کے معاملات میں سیاسی مداخلت نہیں ہوگی، لیکن نتائج دینا ضروری ہے۔
سہیل آفریدی نے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کا اعلان کیا اور کہا کہ کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ عوام کے لیے اوپن ڈور پالیسی اپنائی گئی ہے اور سرکاری کارکردگی کو پرفارمنس انڈیکیٹرز سے ناپا جائے گا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ایمان، حوصلہ اور عزم کے ساتھ دہشت گردی کو شکست دیں گے۔تقریب میں چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل آف پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، مختلف محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے افسران، پولیس افسران اور اہلکاروں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ اس موقع پر پولیس اور سول انتظامیہ کے شہیدوں کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے کچھ لوگوں کا کام سیاست نہیں، مگر وہ پھر بھی مداخلت کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ انصاف فراہم کرنے کے ذمہ دار ہیں وہ یہ کام انجام نہیں دے رہے، جس سے صورتحال خراب ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ عمران خان کے وژن کے مطابق عوام کو ریلیف دینے اور عوام کے لیے ہی فیصلے کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔