بالی ووڈ کے معروف اداکار سنجے دت نے 1993 کے ہولناک واقعات اور اپنی طویل قید کے دوران پیش آنے والی مشکلات سے متعلق اہم اور حساس انکشافات کیے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، ایک حالیہ انٹرویو میں سنجے دت نے اپنی 5 سالہ قید، مقدمات اور اس دوران ہونے والی تکالیف پر کھل کر بات کی۔انہوں نے بتایا کہ بابری مسجد کے واقعے کے بعد ان کے خاندان کو شدید دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا تھا۔ سنجے دت کا کہنا ہے کہ ان پر اسلحہ رکھنے کا الزام لگایا گیا، لیکن اس کا کوئی ٹھوس ثبوت کبھی پیش نہیں کیا گیا۔اداکار نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، "میں آج بھی نہیں سمجھ پایا کہ مجھے کیوں جیل بھیج دیا گیا۔ 25 سال بعد عدالت نے تسلیم کیا کہ میرا بم بلاسٹ کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔"
سنجے دت نے یہ بھی بتایا کہ جیل کا وقت ان کے لیے ایک مشکل مگر سیکھنے کا دور تھا۔ انہوں نے کہا، "میں نے وہاں رہ کر قانون کی کتابیں پڑھیں، دعا کی اور خود کو مضبوط رکھا۔ میں نے مشکلات کو شکست دینے کے بجائے انہیں زندگی کا سبق سمجھا۔"واضح رہے کہ سنجے دت ان دنوں اپنی آنے والی متنازع فلم "دھورندھر" پر کام کر رہے ہیں، جس میں وہ رنویر سنگھ کے ہمراہ نظر آئیں گے۔