مواقع نہ ملنے پر ہماچل پردیش واپس جانے کا فیصلہ کر لیا تھا: یامی گوتم

مواقع نہ ملنے پر ہماچل پردیش واپس جانے کا فیصلہ کر لیا تھا: یامی گوتم

ممبئی: بالی ووڈ کی معروف اداکارہ یامی گوتم نے اپنے فلمی سفر کے مشکل ترین دور سے متعلق اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب انہوں نے فلم انڈسٹری چھوڑنے اور اپنے آبائی علاقے ہماچل پردیش واپس جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

ایک حالیہ انٹرویو میں 37 سالہ اداکارہ نے اپنے کیریئر کے اتار چڑھاؤ کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ 2012 میں فلم ’وکی ڈونر‘ سے کامیاب آغاز کے باوجود انہیں طویل عرصے تک ایسے کردار نہیں ملے جن سے وہ اپنی صلاحیتیں ثابت کر سکتیں۔یامی گوتم نے کہا کہ فلمی دنیا میں مسلسل جدوجہد، مایوسی اور محدود مواقع کے باعث ایک وقت پر وہ اس نتیجے پر پہنچ گئی تھیں کہ شاید اداکاری کا شعبہ ان کے لیے نہیں ہے۔ انہوں نے سوچ لیا تھا کہ وہ ممبئی چھوڑ کر اپنے آبائی علاقے ہماچل پردیش واپس چلی جائیں گی اور ایک نئی زندگی کا آغاز کریں گی۔اداکارہ کے مطابق ان کے والدین نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا اور جب انہوں نے گھر واپس آنے کا سوچا تو والدین نے بھی کہا کہ اگر یہی فیصلہ ہے تو وہ ان کا خیر مقدم کریں گے۔یامی گوتم نے بتایا کہ اسی دوران ان کی فلمی زندگی میں ایک بڑا موڑ آیا۔ 2019 میں ریلیز ہونے والی جنگی فلم ’یوری: دی سرجیکل اسٹرائیک‘ میں کام کرنے کا موقع ملا، جس میں انہوں نے وکی کوشل کے ساتھ مرکزی کردار ادا کیا۔ اس فلم کی کامیابی نے نہ صرف ان کے کیریئر کو نئی سمت دی بلکہ ان پر دوبارہ اعتماد بھی بحال کیا۔

انہوں نے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت انہوں نے انڈسٹری چھوڑنے کا فیصلہ کیا، اسی دوران حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے۔ ’یوری‘ کے بعد فلم ’بالا‘ نے بھی ان کے کام کو مزید سراہا اور انہیں ایک مضبوط اداکارہ کے طور پر دوبارہ شناخت ملی۔یامی گوتم نے بتایا کہ ’وکی ڈونر‘ جیسی کامیاب فلم کے باوجود انہیں ایک غیر روایتی اداکارہ سمجھا جاتا رہا اور انہیں مسلسل خود کو ثابت کرنا پڑا۔اداکارہ نے بالی ووڈ میں آؤٹ سائیڈر فنکاروں کو درپیش مشکلات پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ صرف باہر سے آنا نہیں بلکہ ہر بار اپنی صلاحیت ثابت کرنا ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فلمی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے فنکاروں کو ناکامی کے باوجود کئی مواقع مل جاتے ہیں، جبکہ انڈسٹری سے باہر آنے والے فنکاروں کو ایک موقع حاصل کرنے کے لیے طویل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔

یامی گوتم نے کہا کہ وہ اکثر سوچتی تھیں کہ اگر انہیں بھی اتنے مواقع دیے جاتے تو شاید وہ مزید بہتر کارکردگی دکھا سکتی تھیں، تاہم اب حالات میں تبدیلی آ رہی ہے۔ آج کے دور میں ناظرین فنکار کی شہرت یا پس منظر کے بجائے اس کے کام، اداکاری اور معیاری مواد کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہی تبدیلی انہیں مستقبل کے حوالے سے امید دلاتی ہے اور وہ سمجھتی ہیں کہ محنت اور اچھا کام کرنے والے فنکاروں کے لیے مواقع اب بھی موجود ہیں۔