میانمار کے آرمی چیف جنرل من آنگ ہلینگ کو ملک کے صدر کے طور پر منتخب کر لیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میانمار کی اسمبلی کے اسپیکر نے بتایا کہ من آنگ ہلینگ نے کل 584 پارلیمانی ووٹوں میں سے 293 ووٹ حاصل کیے، جس کے بعد وہ صدر کے عہدے کے لیے کامیاب ہوئے۔جنرل من آنگ ہلینگ کی سیاسی پس منظر اہمیت کا حامل ہے۔ جنوری 2025 کے انتخابات میں فوج کی حامی پارٹی نے 80 فیصد سے زیادہ پارلیمانی نشستیں حاصل کیں، جس نے فوج کے اثر و رسوخ کو مزید مضبوط کیا۔
یہ پہلا موقع نہیں جب من آنگ ہلینگ نے سیاسی میدان میں اہم کردار ادا کیا۔ 2021 میں اس نے نوبل امن انعام یافتہ لیڈر آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کی اور انہیں گرفتار کر لیا تھا۔ اس کے بعد میانمار میں فوجی حکومت نے اقتدار سنبھالا، اور ملک کی جمہوری سیاسی صورتحال متاثر ہوئی۔ماہرین کے مطابق ان کے صدر منتخب ہونے سے ملک میں فوجی کنٹرول مزید مضبوط ہوگا اور شہری آزادیوں اور سیاسی اپوزیشن پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔