جولائی تا فروری براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 3 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2.4 ارب ڈالر رہ گئی، علاقائی کشیدگی نے سرمایہ کاری کو شدید متاثر کیا
امریکہ ایران تنازع اور جنگی خدشات، پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری میں بڑی کمی کی وجوہات ہیں:قومی اسمبلی میں تحریری جواب
اسلام آباد ( آن لائن )وفاقی حکومت نے موجودہ مالی سال میں پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں بڑے پیمانے پر کمی کا اعتراف کر لیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے انچارج وزیر کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال کے ابتدائی آٹھ ماہ، یعنی جولائی تا فروری، کے دوران براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 22 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔تحریری جواب کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں پاکستان کو 3 ارب 88 ملین امریکی ڈالر کی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری حاصل ہوئی تھی، تاہم رواں مالی سال کے جولائی تا فروری حصے میں یہ سرمایہ کاری کم ہو کر 2 ارب 409 ملین امریکی ڈالر رہ گئی۔حکومت نے سرمایہ کاری میں اس نمایاں کمی کی بنیادی وجوہات علاقائی کشیدگی، پاک بھارت جنگی صورتحال اور حالیہ امریکہ ایران تنازعے کو قرار دیا ہے۔ تحریری جواب میں کہا گیا کہ خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث بیرونی سرمایہ کاروں نے نئی سرمایہ کاری کے فیصلے مؤخر کر دیئے