ایس سی او سربراہی اجلاس، پاکستان2026-27 کیلئے صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم نے اعلامیے پر دستخط کردئیے‘ ایرانی صدر کی پاکستان کی امن کیلئے کاوشوں کی تعریف

شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت پاکستان کے سپرد پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال  کرنا ناقابل قبول ہے:شہبازشریف
پاکستان   امن  کیلئے پر عزم ، علاقائی بحران میں امن کیلئے مؤثر کردار ادا کیا‘ایس سی او عالمی امن و استحکام کا اہم پلیٹ فارم ہے، تنازعات کا پرامن حل اور بین الاقوامی قانون ہماری پالیسی کا بنیادی اصول ہے
 پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ میں توانائی اور آئی ٹی کو ترجیح دی جائے گی‘عالمی ادارے اعلانات کو عملی اقدامات میں بدلیں‘دفاعی معاہدہ کسی کے خلاف نہیں: وزیراعظم کا  ایس سی او اجلاس سے خطاب 
بشکیک (آن لائن‘آئی این پی )پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم  کے سربراہانِ مملکت کونسل کی 2026-27 کے لیے صدارت سنبھال لی ہے، جس کے بعد تنظیم کی آئندہ سرگرمیوں اور سربراہ اجلاس کی میزبانی میں پاکستان کا اہم کردار ہوگا۔کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کونسل کے اجلاس کے اعلامیے پر دستخط کی تقریب ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی جانب سے اعلامیے پر دستخط کیے۔اجلاس میں شرکت کے لیے وزیراعظم شہباز شریف مرکزی ہال پہنچے تو کرغزستان کے صدر نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا اور باہمی خیرسگالی کا اظہار کیا۔اجلاس کے موقع پر شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہوں کا گروپ فوٹو بھی ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف دیگر عالمی رہنماؤں کے ہمراہ شریک ہوئے۔دریں اثناء   ایس سی او اجلاس سے خطاب  کرتے ہوئے   وزیراعظم شہباز شریف نے کہا  پاکستان نے علاقائی بحران کے دوران امن کے فروغ کے لیے مؤثر اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، ملک تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے، جبکہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تاریخی اجلاس میں شرکت ان کے لیے اعزاز ہے، ایس سی او عالمی امن و استحکام کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے، جبکہ تنظیم کے قیام کے 25 سال مکمل ہونا ایک اہم سنگ میل ہے۔وزیراعظم  نے کہا ہے کہ ایس سی او ترقیاتی حکمت عملی 2035 پر عملدرآمد ضروری ہے، ایس سی او ترقیاتی بینک کا قیام اہم قدم ثابت ہو گا۔ پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ میں توانائی اور آئی ٹی کو ترجیح دی جائے گی۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایس سی او کا فعال اور ذمہ دار رکن ہے، موجودہ عالمی منظرنامہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور پیچیدہ چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایس سی او مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اجتماعی عزم کی علامت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ میں صحت، ثقافت اور کھیل کی ترجیحات میں شامل ہیں ،پاکستان غربت کے خاتمے اورسماجی تحفظ کے فروغ کیلئے کردار جاری رکھے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی بحران کے دوران امن کے لیے مؤثر کردار ادا کیا اور پاکستان کی سفارتی کوششیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط تک پہنچیں۔ یہ مفاہمتی یادداشت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قانون پر یقین رکھتا ہے، پاکستان نے علاقائی بحران کے دوران امن کیلئے مؤثر کردار ادا کیا۔ پاکستان خطے میں امن کے لیے اپنی کوشش جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ ایس سی او خطے میں تین ارب سے زائد افراد آباد ہیں، علاقائی رابطہ کاری اب انتخاب نہیں بلکہ تزویراتی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پانی ہمارے خطے کی زندگی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، پانی کو سیاسی مقاصد یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی فریق کے خلاف نہیں۔