جیل میں قیدی قتل،6 اہلکار معطل

کوٹ لکھپت جیل میںکھانے کے برتن گم ہونے پر جھگڑا، تیز دھار آلے سے حملہ، اشرف مارا گیا ،فلک شیر زخمی 
 مقدمہ درج، تین ڈی آئی جیز پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل ، دو اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس سمیت چھ اہلکار معطل کئے گئے
لاہور (کرائم رپورٹر) کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قیدیوں کے درمیان جھگڑے کے نتیجے میں ایک قیدی جاں بحق جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ کوٹ لکھپت میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کامران مقبول کی مدعیت میں درج کرلیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق گزشتہ شام ساڑھے 7 بجے جیل کے کمروں میں دو گروپوں کے درمیان لڑائی ہوئی، ایک گروپ میں محمد اشرف اور فلک شیر جبکہ دوسرے گروپ میں محمد عثمان عرف شانی، جاوید اقبال اور آصف محمود شامل تھے۔ جھگڑا کھانے کے برتن گم ہونے پر شروع ہوا، جس کے دوران محمد عثمان اور اس کے ساتھیوں نے اسٹیل کے چمچ سے بنے تیز دھار آلے سے محمد اشرف اور فلک شیر پر حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں دونوں شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو پہلے جیل ہسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں جنرل ہسپتال لاہور لے جایا گیا، جہاں محمد اشرف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا جبکہ فلک شیر تاحال زیر علاج ہے۔ پولیس کے مطابق جاں بحق قیدی محمد اشرف تھانہ مانگا منڈی میں درج قتل کے مقدمے میں جیل میں قید تھا، جبکہ زخمی فلک شیر تھانہ فیکٹری ایریا میں درج منشیات کے مقدمے میں قید ہے۔ واقعے پر تینوں ملزمان کے خلاف قتل اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ دوسری جانب جیل میں قیدیوں کے جھگڑے کا سیکرٹری داخلہ نے نوٹس لیتے ہوئے تین ڈی آئی جیز پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس میں ڈی آئی جی محسن رفیق، ڈی آئی جی شوکت فیروز اور ڈی آئی جی نوید رئوف شامل ہیں۔ آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل چوہدری اعجاز اصغر نے ہسپتال میں زیر علاج زخمی قیدی کی عیادت بھی کی۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔تاہم دو اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس سمیت چھ اہلکاروں کو 90 روز کے لیے معطل کر دیا گیا۔معطل کیے جانے والے اہلکاروں میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس ظفر علی اور امداد رسول، چیف وارڈر عرفان خان جبکہ وارڈرز تنویر، عمران اور آصف شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز جیل میں قیدی گروپوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں ایک قیدی ہلاک جبکہ چار زخمی ہوگئے تھے۔ واقعے کے بعد غفلت اور ذمہ داری کے تعین کے لیے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔