بغداد میں بھی شدید احتجاج ، عوامی سطح پر غم و غصے کا اظہار ،امریکا میں بھی آوازیں بلند ہوئیں
نیویارک/بغداد/تہران (آئی این پی) ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد دنیا کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ۔ عراق کے دارالحکومت بغداد میں بھی شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔ اطلاعات کے مطابق امریکی اور اسرائیلی کارروائی میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر کے بعد مظاہرین گرین زون کی طرف بڑھے۔گرین زون بغداد کا وہ انتہائی محفوظ علاقہ ہے جہاں عراقی حکومت، پارلیمنٹ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔الجزیرہ کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیوز میں مظاہرین کو جھنڈے لہراتے اور نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کچھ مظاہرین امریکی سفارت خانے کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ بعض افراد نے گرین زون کے داخلی دروازے کے قریب چوک پر گاڑیوں کو روکنے کی بھی کوشش کی۔ سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان تنا کی کیفیت دیکھی گئی۔ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس نے بھی ایسی ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں لوگوں کو سڑکوں پر نکل کر اپنے رہنما کے لیے سوگ مناتے دکھایا گیا ہے۔ مختلف شہروں میں تعزیتی اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں اور عوامی سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔امریکا میں بھی اس واقعے کے خلاف آوازیں بلند ہوئیں۔ نیویارک شہر کے ٹائمز اسکوائر میں شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے امریکی حملوں کو ایک خطرناک پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ غیر قانونی جنگ میں خطرناک اضافہ ہے۔ مظاہرین نے جنگ بندی اور مزید حملے روکنے کا مطالبہ کیا۔مقبوضہ کشمیر میں بھی سرینگر میں لال چوک پر ایران کے رہبرِ اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔صورتحال کے بعد خطے اور دنیا بھر میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک اور رہنما اس پیش رفت پر اپنے اپنے بیانات دے رہے ہیں جبکہ عوامی سطح پر احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔