روزے کے روحانی و جسمانی فوائد

شاذ قاسمی 
روزہ اسلام کا تیسرا اہم رکن  ہے جو امت مسلمہ پر ایک ماہ کے لیے فرض قرار دیا گیا ہے اسے  عربی میں " الصوم" کہا جاتا ہے جس کا معنی رکنے کے ہیں اور شریعت میں روزہ صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور شہوانی و نفسانی خواہشات سے بچنے کا نام ہے۔ روزہ کی اس تعریف سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ روزہ بے شمار دنیاوی و دینی ، بدنی و روحانی فوائد پر مشتمل ایک اہم عبادت ہے جس طرح روزہ رہنے سے اللہ کی رضا، خوشنودی، قربت، مغفرت اور بخشش نصیب ہوتی ہے اسی طرح روزہ دار متعدد جسمانی اور ظاہری فوائد بھی حاصل کرتا ہے جواس کے لئے اور اسی کی صحت و شخصیت کے لیے بہت ضروری ہے اور یہ دونوں ایک دسر ے سے منسلک ہیں جڑے ہوئے ہیں  روزہ کا ظاہری فایدہ تو یہ ہے روزہ بے حیائی و بے شرمی کے کاموں سے روکتا ہے گناہ کے کاموں سے  بچاتا ہے حسد کینہ لڑائی جگھڑا فسق و فجور گالی گلوج نفرت عداوت جیسی منکرات اور غلط کام سے روکتا ہے  تو وہی آنکھ کان معدہ جسم و جان کو بھوکا پیاسا رکھ کر روحانی غذا فراہم کرتا ہے کیوں کہ جب اعضاء￿  و جوارح شکم سیر ہوں تو نفس روح اور باطن بھوکے ہوتے ہیں  اور جب نفس شکم سیر ہو تو تمام اعضاء￿  بھوکے ہوتے ہیں عربی کا ایک مقولہ بہت مشہور ہے ،ترجمہ : جب نفس بھوکا ہوتو تمام اعضاء￿  و جوارح شکم سیر ہوتے ہیں اور جب اجزاء￿  بدن بھوکے ہوں تو نفس شکم سیر ہوتا ہیروزہ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے مسکینوں،مظلوموں  مقہوروں غریبوں ، بے کسوں، درد کے ماروں   کے ساتھ موانست و غم خواری کا احساس و جذبہ دل میں پروان چڑھتا ہے جب ایک مسلمان  سال کا ایک مہینہ بھوکا پیاسا اور نفسانی خواہشات سے بچتا ہے بھوک کی شدت برداشت کرتا ہے پیاس کی تپش کو جھیلتا ہے تو اسے ان لوگوں کے بھوک پیاس اور ضرورتوں کا کا احساس ہوتا ہے جو سالوں بھر اسی حالت میں رہتے ہیں اور ان کا کوئی  پرسان حال نہیں پھر ان پر خرچ کرتا ہے جس کا ثواب بھی زیادہ ہے رمضان میں ہر نیک اعمال کا اجر ہر چند سے دو چند کر دیا جاتا ہے۔روزے کے اخروی روحانی(SpiritualBenefits) فایدے میں یہ بھی ہے کہ اس کی پابندی  سے  تقوی کی کیفیت دلوں میں پیداہوتی ہے  کیوں کہ روزہ انسان میں تقویٰ (پرہیزگاری) پیدا کرتا ہے  نفس پر قابو پانے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ روزہ کا اہم فایدہ یہ بھی ہے کہ وہ   پچھلے تمام گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے مگر یہاں اس بات کو دھیا ن میں رکھنا چاہیے کہ اس سے یا اس قسم کی دیگر عبادات سے گناہ صغیرہ ہی معاف ہوتے ہیں گناہ کبیرہ کی معافی کے لیے توبہ ضروری ہے گناہ کبیرہ  توبہ کے بغیر معافی نہی ہوتا  اسی طرح روزہ کا ایک فایدہ یہ بھی ہے کہ وہ روح کو گندگی سے پاک کرتا ہے اسے نور اور ملکوتی صفات سے آراستہ کر کے جنت میں جانے کے قابل بناتا ہے احادیث میں ہے کہ  روزہ داروں کے لیے جنت میں ایک خاص قسم کا  دروازہ ہے جس کانام ہے  ' الریان'۔اس دروازے سے  صرف روزہ دار ہی  داخل ہوں گے اسی طرح ایک اور حدیث میں روزہ کا یہ بھی فائدہ بتایا گیا ہے کہ روزہ اپنے رکھنے والوں کو  جہنم کی آگ سے 70 سال کی مسافت جتنی دور رکھتا ہے۔
روزہ بندے اور خدا کے درمیان تعلق کو مضبوط کرتا ہے اور روحانی سکون بخشتا ہے۔ بھوک و پیاس پر صبر کرنا اور اللہ کی نعمتوں پر شکر گزاری کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ روزے کے دنیاوی و طبی فوائد بھی بے شمار ہیں روزے کے دنیاوی و طبی فوائد (Physical & Wordly Benefits) میں امنیاتی نظام کی مضبوطی  شامل ہے۔روزہ جسم کے دفاعی نظام کو وائرس اور بیکٹیریا سے لڑنے کے لیے مضبوط کرتا ہے۔اس طرح ہم پاتے ہیں کہ نظام ہاضمہ کی بہتری کے لیے بھی روزہ بے حد موزوں ہے روزے سے معدے اور جگر کو آرام ملتا ہے، جس سے جسم کے تمام اعضاء￿  'ری فرٹیون (re-tune) ہو جاتے ہیں۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ کینسر اور ذیابیطس سے بچاؤ کرنے میں بھی روزہ کا اہم کردار ہے  جدید تحقیق کے مطابق، روزہ رکھنے (خاص کر 12-16 گھنٹے) سے خراب خلیات ختم ہوتے ہیں اور کینسر و ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
آج کے وقت میں موٹاپا سے اکثر نوجوان بچے بچیاں اور ضعیف العمر لوگ پریشان ہے ضرورت سے زیادہ موٹاپا خوبصورتی فٹنس کے لئے بہتر نہی مانا جاتا موٹاپا شوگر کا سبب بھی بنتا ہے روزہ کا بہت بڑا فائدہ یہ  ہے کہ وہ وزن میں کمی کا باعث بنتا ہے جسم کی اضافی چربی کو پگھلاتا ہے اور کولیسٹرول کی سطح بہتر ہوتی ہے۔ جدید تحقیق نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کے روزہ دماغی اور نفساتی  تناؤ کو کم کرتا ہے، 
   چونکہ روزہ صبر کا مہینہ ہے اس لئے اس سے صبر کی عادت پڑتی ہے اور صلہ رحمی و سخاوت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ 
مختصر یہ کہ روزہ رکھنے کے بہت فوائد ہیں جنت کا دخول اللہ رب العزت کی رضا و خوشنودی ، گناہوں کی بخشش  یہ سب روزے کے ہی فائدے ہیں۔روزہ  رکھنے سے  ،جسم ، ذہن اور روح کو طاقت ملتی  صحت اچھی ہوتی ہے روزہ سے ہمیں دنیا اور آخرت کی خوشی نصیب ہوتی ہے۔۔۔