اسرائیل کے وزیر اعظم اسحاق رابین کو ایک امن ریلی کے بعد تل ابیب میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔
ان کا جرم صرف اتنا تھا کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن کے خواہاں تھے. ایک ایسی خواہش جو اسرائیل کے اندر انتہا پسند یہودی حلقوں کو گوارا نہ تھی۔
فوجی جنرل سے امن کے سفیر تک
اسحاق رابین نے اپنی سیاسی زندگی سے پہلے اسرائیلی فوج میں جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں اور 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تاہم جنگ کے ہولناک تجربات نے ان کے نظریات بدل دیے۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اسرائیل کی حقیقی سلامتی صرف فلسطینیوں کے ساتھ امن میں مضمر ہے، نہ کہ مسلسل جنگ و قبضے میں۔رابین 1974 میں پہلی بار اور پھر 1992 میں دوسری بار اسرائیل کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ ان کی دوسری مدتِ اقتدار کا سب سے نمایاں کارنامہ "اوسلو معاہدہ (Oslo Accords)" ہے، جو فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے ساتھ طے پایا۔
اوسلو معاہدہ: ایک نئی امید
اوسلو ایکارڈز کے تحت:مغربی کنارے اور غزہ کے کچھ علاقوں میں فلسطینیوں کو خودمختاری دی گئی۔اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کو تسلیم کیا۔دونوں فریقین کے درمیان دائمی امن مذاکرات کا آغاز ہوا۔اس پیشرفت پر اسحاق رابین، یاسر عرفات اور امریکی صدر بل کلنٹن کو نوبیل امن انعام سے بھی نوازا گیا۔
اندرونی مخالفت اور نفرت کی مہم
تاہم اسرائیل کے اندر انتہا پسند دائیں بازو کے گروہ، مذہبی یہودی عالموں اور اپوزیشن جماعت لیکود پارٹی (جس کے سربراہ بینجمن نیتن یاہو تھے) نے اس امن معاہدے کی شدید مخالفت کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ فلسطینیوں کے ساتھ معاہدہ:
"یہودی سرزمین سے غداری" ہے
"خدا کی مرضی کے خلاف" ہے
رابین کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی گئی۔ ریلیوں میں "موت ہو رابین کو" جیسے نعرے لگائے گئے۔ ان کے پوسٹرز پر نازی وردی پہنے ہوئے تصاویر لگائی گئیں۔
قاتل: ایک یہودی شدت پسند
4 نومبر 1995 کی شام، اسحاق رابین نے تل ابیب کے کنگز آف اسرائیل اسکوائر میں ایک ریلی سے خطاب کیا۔ ریلی کا موضوع تھا: "امن کے لیے ہاں"۔ریلی کے اختتام پر جب وہ اپنی گاڑی میں جانے لگے، تب ایک یہودی شدت پسند ییگال عامیر (Yigal Amir) نے ان کے قریب آکر دو گولیاں مار دیں — ایک سینے میں اور ایک پیٹ میں۔ رابین کو اسپتال منتقل کیا گیا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔قاتل ییگال عامیر، جو کہ قانون کا طالبعلم تھا، نے بعد میں اعتراف کیا کہ اس نے یہ قتل "یہودی قانون کے تحت جائز" سمجھ کر کیا، کیونکہ رابین "یہودیوں کو نقصان پہنچا رہے تھے۔"
قتل کے اثرات
اسحاق رابین کا قتل:
اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کی کوششوں کے لیے ایک کاری ضرب ثابت ہوا۔امن مذاکرات کی رفتار سست پڑ گئی۔اسرائیل میں سیاسی تقسیم مزید گہری ہو گئی۔رابین کی موت کے بعد ان کے جانشین شمعون پیریز نے امن مذاکرات کو جاری رکھنے کی کوشش کی، مگر جلد ہی انتہا پسند حکومت اقتدار میں آ گئی، جس نے اوسلو عمل کو مؤثر طریقے سے روک دیا۔
عالمی ردِعمل
دنیا بھر میں رابین کے قتل پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ امریکی صدر بل کلنٹن نے رابین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:
"شالوم، حبیبی" (Goodbye, my friend)
پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک نے اس واقعے کو خطے کے امن کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔