سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
انڈیامیں سٹریٹجک امورکے ماہربراہماچیلانی نے محفوظ عالم کی فیس بک پوسٹ کاسکرین شاٹ شیئرکرتے ہوئے لکھاکہ’’محمد یونس نے سابق امریکی صدربِل کلنٹن کی موجودگی میں محفوظ عالم کاتعارف بطورشیخ حسینہ کی حکومت گرانے کے ماسٹرمائنڈ کے کروایاتھا۔اب یہ اسلامی طالب علم رہنمااکھنڈبنگلہ دیش چاہتے ہیں جس میں یہ انڈِیاکے بھی کچھ حصے شامل کرناچاہتے ہیں۔ محفوظ عالم کومحمدیونس کی حکومت میں وزیرخا رجہ مقررکیاگیاہے۔
خارجہ امورکی تجزیہ کارنینیماباسوکہتی ہیں کہ’’وہاں ہندوں پرحملے ہوئے ہیں لیکن یہ جانناضروری ہے کہ بیشترہندوعوامی لیگ کے حامی ہیں۔بیشترحملے دراصل عوامی لیگ کے حامی ہندوؤں پرہوئے ہیں جنہوں نے عوامی لگ کے دورِحکومت میں مظاہرین پرتشددمیں حصہ لیاتھا۔یہ حملے بڑے پیمانے پرمسلمانوں پربھی ہوئے ہیں،اس لیے ان کی نوعیت مذہبی نہیں سیاسی ہے لیکن یہاں جس طرح اسے غلط اندازمیں بڑھاچڑھاکرپیش کیاگیااس سے یقینادونوں ممالک کے تعلقات پراثرپڑاہے۔ نینیما عبوری حکومت کے قیام کے بعد بنگلہ دیش کادورہ کرچکی ہیں۔ان کاخیال ہے کہ وہاں کے ہندوملک کے بدلتے ہوئے نظام میں اپنے جمہوری حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں۔ایسانہیں ہے کہ اگربنگلہ دیش کے ہندوؤں کوموقع مل جائے تووہ سب انڈیاآجائیں گے۔انہیں اگرموقع ملے تووہ سب امریکااوریورپ کارخ کریں گے۔انہیں انڈیاسے کوئی خاص رغبت نہیں ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیاعبوری حکومت کے قیام کے بعددونوں ملکوں کے تعلقات بہت خراب ہوچکے ہیں؟توکیااب شیخ حسینہ کی حوالگی کے مطالبے سے یہ تعلقات اوربھی خراب ہوں گے؟تجزیہ کارنروپماسبھرامنین کے مطابق اس کادونوں ملکوں کے تعلقات پرکوئی خاص اثرنہیں پڑے گا۔'انڈیاکے خارجہ سیکریٹری وکرم مشری نے حال میں ڈھاکہ کادورہ کیا ۔یہ ایک طرح سے دلی کایہ اعتراف تھاکہ شیخ حسینہ اب مستقبل قریب میں اقتدارمیں نہیں آنے والی ہیں اوران کی جماعت عوامی لیگ کودوبارہ ایک فعال اور مقبول پارٹی بننے میں بہت وقت لگے گا۔اس لیے انڈیاکے سامنے یہی راستہ ہے کہ وہ عبوری حکومت کے ساتھ اپنے روابط بہتر کرے۔
ان کامزیدکہناہے کہ یہ صرف اس لیے ضروری نہیں ہے کہ بنگلہ دیش میں ایک بڑی ہندواقلیت ہے بلکہ اس لیے بھی بنگلہ دیش سے اچھے تعلقات رکھنے ہوں گے کیونکہ اس سے ملک کی شمال مشرقی ریاستوں کی سیکورٹی جڑی ہوئی ہے۔چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کابھی سوال ہے۔خارجہ سکریٹری کاڈھاکہ کادورہ اس سمت پہلابڑاقدم ہے۔انڈیامیں سرکاری سطح پریہ ڈس انفارمیشن بھی پھیلائی جارہی ہے کہ بنگلہ دیش میں اب جمہوریت کمزورپڑجائے گی اورسخت گیرمذہبی عناصراقتدارپرقابض ہو جائیں گے۔بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں روشن خیال ارکان کے ساتھ ساتھ ایسے بھی عناصرہیں جوسخت گیرمذہبی نظریے میں یقین رکھتے ہیں جبکہ انڈیاجوخودکودنیاکی سب سے بڑی جمہورہت کانعرہ لگاتے ہوئے ذرہ بھرندامت محسوس نہیں کرتاکہ وہ خودکشمیریوں،سکھوں کے علاوہ دیگراقلیتوں کے ساتھ کس قدرہولناک انسانیت سوزسلوک کرچکاہے بلکہ خودگجرات کے مودی قصاب کے دامن سے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کاخون ابھی تک ٹپک رہاہے اوروہ اپنے کئی انٹرویو میں اس پراپنے ہندوہونے پر شرم محسوس کرنے کی بجائے فخرکااظہاربھی کرچکے ہیں ۔ وہاں پہلے سے ایک کوشش رہی ہے کہ تاریخ کوذراپیچھے کی سمت موڑدیاجائے لیکن بنگلہ دیش میں اس طرح کی کوششوں کی مزاحمت ہوتی رہی ہے۔
خارجی امورکی تجزیہ کارنینیماباسوکہتی ہیں کہ’’شیخ حسینہ کے خلاف عوام کی سب سے بڑی شکایت تھی کہ وہ خودہی الیکشن لڑتی تھیں اورخودہی الکشن جیت جاتی تھیں۔دوسری جماعتوں کوانتخاب میں حصہ ہی نہیں لینے دیاجاتاتھا۔وہاں کیلئے سب سے ضروری چیزہے کہ وہاں جلد انتخابات ہوں اوراس میں سب جماعتوں کوحصہ لینے کی اجازت ہوکیونکہ جمہوریت میں سب کی شراکت ضروری ہے۔عبوری حکومت کئی باریہ کہہ چکی ہے کہ بنگلہ دیش ایک مسلم اکثریتی ملک ہے لیکن اس کاہرگزیہ مطلب نہیں ہے کہ دوسری مذہبی اقلیتوں کوبرابرکے حقوق نہیں حاصل ہوں گے‘‘۔
واشنگٹن میں واقع ولسن سنٹرکے ساتھ ایشیاانسٹی ٹیوٹ کے سربراہ مائیکل کوگل مین نے ایک مضمون میں بنگلہ دیش کے حالات پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھاہے کہ’’یہ یادرکھنے کی بات ہے کہ ڈھاکہ میں کوئی منتخب حکومت نہیں ہے۔اس کے باوجودجمہوریت کوبحال کرنے کاعزم لیے ہوئے نئے طاقتورسیاسی گروپ کے ابھرنے سے بنگلہ دیش کی جمہوریت کیلئے امیدیں برقرارہیں۔ان میں وہ احتجاجی طلبہ رہنما بھی شامل ہیں جنہوں نے شیخ حسینہ کوملک سے باہرنکالا۔ان میں سے بعض رہنماعبوری حکومت میں شامل ہیں۔اس عبوری حکومت میں حقوق انسانی کے معتبرعلمبرداراوربہت سے ایسے عناصرشامل ہیں جوجمہوری اصلاحات پر زوردیتے ہیں‘‘۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی قیادت نوبل انعام یافتہ محمدیونس کررہے ہیں۔ان کاشمارملک کے سرکردہ جمہوریت پسندوں میں کیاجاتاہے۔بنگلہ دیش کے عوام بالخصوص نوجوان طبقے میں انہیں بہت احترام کی نظرسے دیکھاجاتاہے۔ماضی میں اس طرح کی کئی مثالیں ملتی ہیں جب مزاحمت کاروں نے اپنے ملک کی جمہوریت کومستحکم کیا۔اس سلسلے میں چیکو سلواکیہ کے وکلاوہیویل اورجنوبی کوریاکے کم ڈائی جونگ کانام لیاجاسکتاہے۔ان ملکوں میں مزاحمتی جماعتوں نے اقتدارپرقبضہ حاصل کیااوراس کے بعد وہاں جمہوریت کومستحکم کیا ۔ اس امکان کوخارج نہیں کیاجاسکتاکہ یونس اوران کے ساتھ آنے والے سٹوڈنٹ لیڈربنگلہ دیش کے خاندانی اورغیرجہوریت پسندسیاسی رہنماں کی سیاست کے خاتمے کیلئے خوداپنی سیاسی جماعت بنالیں۔
ادھربرطانوی وزیرِٹیولپ صدیق کانام بنگلہ دیش میں جاری کرپشن کی تحقیقات کے حوالے سے سامنے آیاہے اورالزام لگایاگیاہے کہ بنگلہ دیش میں ان کاخاندان مبینہ طورپرتین اعشاریہ نوارب پانڈکی خردبردمیں ملوث ہے۔42سالہ ٹیولپ صدیق برطانوی حکومت میں انسدادِ بدعنوانی کی وزیرہیں اورشیخ حسینہ کی بھانجی ہیں۔ان پرالزام ہے کہ انہوں نے2013 میں بنگلہ دیش اورروس کے درمیان ایک معاہدہ کروایاجس کے باعث بنگلہ دیش میں نیوکلیئرپاورپلانٹ کی کل قیمت میں اضافہ ہوا۔بنگلہ دیش کی نئی حکومت حسینہ واجد اوران کے خاندان کے کرپشن میں ملوث ہونے کی تحقیقات کررہی ہے اورٹیولپ صدیق کانام بھی اسی سلسلے میں سامنے آیاہے جبکہ موصوفہ نے ان الزام کومکمل سیاسی قراردیتے ہوئے ان کی آنٹی شیخ حسینہ کونقصان پہنچانابتایاہے۔
کنزرویٹوپارٹی کے شیڈووزیرِداخلہ میٹ وِکرکااس حوالے سے کہناتھاکہ’’لیبرپارٹی کی انسدادبدعنوانی کی وزیرخودایک کرپشن کیس میں ملوث ہیں،یہ کیئرسٹارمرکے فیصلوں پرلگنے والانیاداغ ہے۔وقت آگیاہے کہ ٹیولپ صدیق سچ بولیں۔برطانوی عوام ایک ایسی حکومت کے مستحق ہیں جس کی ترجیحات میں عوامی مسائل شامل ہوں نہ کہ ایسی حکومت جس کی توجہ ایک اورکرپشن سکینڈل پرمرکوزہو‘‘۔بنگلہ دیش میں اے سی سی اس وقت شیخ حسینہ کی بہن((یولپ صدیق)سمیت ان کے خاندان اورسابق حکومت کے متعدداراکین کے
خلاف تحقیقات کررہاہے۔بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرمنل ٹربیونل((ئی سی ٹی)نے بھی’’انسانیت کے خلاف جرائم‘‘کے الزامات میں شیخ حسینہ اوردیگر45افرادکے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کررکھے ہیں۔
حیرت انگیزطورپرشیخ حسینہ اورعمران خان کے سیاسی مستقبل میں مماثلت نظرآرہی ہے۔دونوں رہنماؤں کے چاہنے والوں کو ٹرمپ سے نہ صرف اپنے رہنماؤں کی رہائی کی بلکہ دوبارہ اقتدارمیں آنے کی توقعات ہیں۔کرپشن مقدمات کی بھی ایک لمبی فہرست ہے جس کاان کوسامناہے۔سوال یہ ہے کیاان کی ٹرمپ سے خوش گمانیاں بارآورثابت ہوسکتی ہیں جبکہ امریکاکامانناہے کہ عالمی سیاست میں’’فری لنچ‘‘کی گنجائش نہیں ہوتی۔کیاچین کے خلاف بنائے گئے اتحاد’’کواڈ‘‘میں آلہ کاربننے کی قیمت کے طورپرانہیں استعمال کیاجاسکتا
ہے؟دیکھیں اب’’خوش گمانیوں‘‘کامقابلہ بدگمانیوں میں کب بدلتاہے کیونکہ امریکاکی تاریخ ہے کہ وہ اپنے مقاصدکی تکمیل کے بعد اپنے دوستوں کی قربانی دیتے ہوئے ایک لمحہ تاخیرنہیں کرتاکیونکہ پاکستان سے زیادہ کسی کو اتناتلخ تجربہ نہیں۔