حالات گورنر راج کے ہوں تو لگتا ،اعظم تارڑ، سیاسی اثرات بھیانک ہونگے،اسد قیصر
ایاز صادق سے اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات ،قائد حزب اختلاف کے تقررکا مطالبہ
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)قومی اسمبلی میں سپیکر ایاز صادق نے کہا ہے اگر کوئی یہ کہے کہ ہم عوام کو پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کیلئے لے کر آئیں گے، تو وہ کر کے دیکھ لیں، مگر اس لب و لہجے اور ایسی زبان کو میں کسی صورت برداشت نہیں کروں گا۔ ریاست اور پالیمان کے خلاف باتیں کرنا غیر مناسب ہے۔پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیر صدار ت شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں سپیکر نے کہا وہ ضروری سمجھتے ہیں گزشتہ روز ایک رکن اسمبلی کی جانب سے دئیے گئے کچھ غیر ذمہ دارانہ بیانات کا تذکرہ ایوان کے سامنے رکھا جائے۔ سپیکر نے کہاکہ بطور کسٹوڈین آف دی ہاو?س پارلیمنٹ کا تحفظ کرنا میری آئینی ذمہ داری ہے، ایوان و ریاست کے خلاف بیانات نہ صرف انتہائی نامناسب ہیں بلکہ جمہوری عمل کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔سپیکر نے دونوں لابیز میں غیر متعلقہ افراد کے بیٹھنے پر پابندی لگا تے ہوئے کہا ارکان اعتراض کرتے ہیں آئندہ کوئی نہیں بیٹھے گا۔حکومتی رکن اسمبلی شمائلہ رانا نے محمود خان اچکزئی کے بیان کے خلاف قرارداد پیش کی۔ سپیکر نے کہا قرار داد لے لیتے ہیں تاکہ ریکارڈ کا حصہ بن سکے ،ہم اتنے کمزور نہیں ہیں۔ پیپلزپارٹی کے نوید قمر نے کہا عوامی طاقت پر پارلیمان کونہ چلنے دینے کی دھمکی جمہوریت و آئین پر حملہ ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہمیں کسی لیڈرکو خوش کرنے کیلئے پارلیمان پر حملے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے ،قرارداد پیش کرلیں مگر ووٹ نہ کیا جائے۔ قرار داد میں کہاگیا یہ ایوان محمود خان اچکزئی کی پارلیمان پر حملے کی دھمکی کی شدیدمذمت کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس رکن کی ممبرشپ معطل کرے،اس رکن کی تنخواہ و مراعات کو بند کردینا چاہئے، پارلیمان کی عزت پر کوئی حملہ برداشت نہیں کریں گے۔پی ٹی آئی کے بیرسٹر گوہر نے کہا اس ایوان اور جمہوریت کیلئے کام کرتے ہیں، اگر جمہوریت کا خیال نہ ہوتا تو اندر نہ بیٹھتے، آپ کی طرح باہر اسمبلی لگاتے،محمود اچکزئی اپوزیشن لیڈر کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس پر سپیکر نے کہا میری نظر میں وہ اپوزیشن لیڈر نہیں ہیں، ایوان کینگہبان نے آپ کا ساتھ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ ی ، تڑی سے گھبرانے والا نہیں، پیار سے جو مرضی لے لیں، ایسے رویے سے نہیں۔ بیرسٹر گوہرنے کہا جو ترامیم آپ نے کیں وہ ہم واپس کرائیں گے،اگر لڑنا ہوتا تو یہاں نہ بیٹھتے۔نور عالم خان نے کہا پارلیمنٹ پر کوئی حملہ کرے گا تو اسے روکنا سپیکر کا کام ہے،پارلیمنٹ پر حملے کی باتیں اب نہیں دہرانی چاہئیں۔پی ٹی آئی کے اسد قیصر نے کہا محمود اچکزئی کی جمہوریت کیلئے جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، غیر جمہوری رویہ ایک وزیر نے اپنایا، بیرسٹر عقیل نے صوبے میں گورنر راج کی با ت کی ہے، اگر حکومت گورنر راج کا سوچ رہی ہے تو سیاسی اثرات بھیانک ہونگے۔ وزیر قانون نے کہا اگر کسی صوبے میں گورنر راج لگایا جاتا ہے تو یہ آئین میں طے ہے، یہ مارشل لا بالکل نہیں۔ وزیر قانون نے کہا گورنر راج آئین میں موجود ہے گورنر راج مارشل لا نہیں ہے حالات گورنر راج کے ہوں تو لگتا ہے ہمیں اقتدار سے دار تک پہنچنے کی روایت ختم کرنا ہوگی۔ وزیر قانون نے کہا دھمکیاں دینے سے ایوان فتح نہیں ہوتے،جب حکومت کو بلائیں گے ہم تیار ہیں۔وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا جیل کی ملاقاتیں فوج کو گالی دینے یا سیاسی دھمکیوں کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ صوبے کے امن و امان کے لیے کی جاتی ہیں۔ عطا تارڑ نے کہا جیل میں ملاقات ملکی اداروں کے خلاف سازشوں کیلئے نہیں قانونی امور پر مشاورت کیلئے ہوتی ہے۔قومی اسمبلی نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ2012 کی منظوری دیدی۔اجلاس میں وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وزارت قانون وانصاف کی جانب سے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق 2012 سینیٹ سے منظور کردہ صورت میں ایوان میں پیش کرنے کی اجازت ملنے پر بل ایوان میں پیش کر دیا۔ ایوان نے بل کی شق وارمنظوری دے دی۔قومی اسمبلی نے فیڈرل پراسیکیوشن سروس ایکٹ 2023 ،انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن ترمیمی بل 2025 اور عمومی شماریات تنظیم نو ترمیمی بل 2025 پیش کیے۔قومی اسمبلی نے وزیر قانون کی جانب سے پیش کردہ فیڈرل پراسیکیوشن سروس ترمیمی بل 2025 اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل 2025 کی منظوری بھی دیدی۔