قومی اسمبلی اجلاس میں محمود خان اچکزئی کے بیان پر مذمتی قرارداد پیش

 اپوزیشن لیڈرکیلئے درکار تعداد تحریری طور پر دی جا چکی‘ محمود اچکزئی کا نوٹیفکیشن کیوں  نہیں ہو رہا:بیرسٹر گوہر
  میرے سے پیار سے سب کچھ منوایا جا سکتا ہے، جبر اور دھمکی سے کوئی بات نہیں مانوں گا:سپیکر ایاز صادق
اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی و اپوزیشن ارکان میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، محمود خان اچکزئی کے بیان پر مذمتی قرارداد پیش کردی گئی ۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا تو ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے سخت مؤقف سامنے آئے۔ اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ اپوزیشن کے ایک رکن نے عوام کو استعمال کرتے ہوئے پارلیمنٹ نہ چلنے دینے کی دھمکی دی، ہم اتنے کمزور نہیں کہ پارلیمان کا دفاع نہ کر سکیں، 2014 میں بھی پارلیمان کا دفاع کیا تھا اور آج بھی کریں گے۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے کہا کہ عوامی طاقت کے نام پر پارلیمان کو نہ چلنے دینے کی دھمکی جمہوریت اور آئین پر حملہ ہے۔ حکومتی رکن شمائلہ رانا نے ایوان میں مذمتی قرارداد پیش کی۔قرارداد میں کہا گیا کہ ایوان محمود خان اچکزئی کی جانب سے پارلیمان پر حملے کی دھمکی کی شدید مذمت کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ متعلقہ رکن کی رکنیت معطل کی جائے، تنخواہ اور مراعات بند کی جائیں۔ اسپیکر نے واضح کیا کہ قرارداد پر ووٹنگ نہیں ہوگی، صرف پیش کیا جائے گا۔بیرسٹرگوہر نے کہا اپوزیشن لیڈر کے لیے درکار تعداد تحریری طور پر دی جا چکی ہے، اس کے باوجود محمود خان اچکزئی کا نوٹیفکیشن کیوں جاری نہیں ہو رہا؟ اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ میرے سے پیار سے سب کچھ منوایا جا سکتا ہے، جبر اور دھمکی سے کوئی بات نہیں مانوں گا