احمدخان اچکزئی
محترم قارئین۔دسمبر 2024ء میں شام کے صدر بشار الاسد کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سیاسی و عسکری منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس بڑی تبدیلی کے نتیجے میں یہ سنگین خدشات ابھرے کہ وہاں برسرِپیکار رہنے والے تجربہ کار غیر ملکی جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں کی طرف منتقل ہو سکتی ہے۔ اقوامِ متحدہ، علاقائی انٹیلیجنس اداروں اور حکومتِ پاکستان نے ان خطرات کی باقاعدہ نشاندہی کی ہے، تاہم زمینی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ اب تک یہ نقل مکانی کسی بڑے یا منظم پیمانے پر وقوع پذیر نہیں ہو سکی۔ اس پیچیدہ صورتحال کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے کے لیے بین الاقوامی رپورٹس، شامی حکومت کی موجودہ حکمتِ عملی اور افغان طالبان کے بیانات کا تقابلی مطالعہ ناگزیر ہے۔عالمی اداروں کی رپورٹس اس نازک صورتحال کے مختلف پہلوؤں کو بے نقاب کرتی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سال 2025ء کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ شام میں اسد حکومت کے خاتمے میں شامل رہنے والے بعض عسکری عناصر افغانستان منتقل ہو کر علاقائی سلامتی کے لیے نئے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق شام میں اب بھی لگ بھگ تین ہزار غیر ملکی جنگجو موجود ہیں، جن میں سے ایک حصہ ممکنہ طور پر افغان سر زمین کا رخ کر سکتا ہے۔ ان خدشات کے تناظر میں افغانستان کے اندر فعال تنظیم 'داعش خراسان' (ISKP) کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے، جس کی افرادی قوت تقریباً 2000 ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ہے۔ ایسے میں شام کے سخت جان جنگجوؤں کا اس نیٹ ورک کا حصہ بننا علاقائی امن کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔اس بحران پر پاکستان کا ریاستی مؤقف انتہائی واضح اور تشویش ناک رہا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان کے مطابق اسد حکومت کے خاتمے کے بعد تقریباً 2,500 غیر ملکی جنگجو شام سے نکل کر افغانستان کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں۔ پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ عناصر نہ تو پاکستانی ہیں اور نہ ہی افغان، بلکہ یہ خالصتاً غیر ملکی عسکریت پسند ہیں جن کی خطے میں موجودگی پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ ہے۔ دیگر ذرائع بھی تصدیق کرتے ہیں کہ 'تحریر الشام' (HTS) کے پرچم تلے لڑنے والے اویغور، تاجک، ازبک، چچن، کرغیز اور تاتار قومیتوں کے کچھ گروہ پاک افغان خطے کی طرف ہجرت کر چکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق سال 2025ء کے ابتدائی مہینوں میں افغانستان کے اندر 'تحریر الشام' کی مقامی شاخ کی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی، جس کی بنیادی وجہ شام سے آنے والے نئے جنگجوؤں کی آمد تھی۔اس سیکیورٹی خطرے کے برعکس، شام کی نئی متبادل حکومت ان غیر ملکی جنگجوؤں کو اپنے اندرونی نظام میں جذب کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ دمشق انتظامیہ نے جون 2025ء سے ایک اسٹریٹجک فیصلے کے تحت تقریباً 3,500 غیر ملکی عسکریت پسندوں کو شامی فوج کی '84ویں ڈویڑن' میں ضم کرنا شروع کر دیا ہے، جن میں اکثریت اویغور، چچن اور داغستانی جنگجوؤں کی ہے۔ 'تحریر الشام' کے رہنما احمد الشرع نے بھی اس ضمن میں پالیسی بیان جاری کیا جس کے تحت اسد حکومت کے خلاف لڑنے والے تمام غیر ملکیوں کو شامی شہریت دینے کی پیشکش کی گئی ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد ان عناصر کو شام کے اندر ہی محدود رکھنا ہے۔ دوسری طرف، کابل میں برسرِاقتدار افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اگست 2025ء میں ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا کہ افغان سر زمین پر کسی قسم کے غیر ملکی جنگجو موجود ہیں۔ان جنگجوؤں میں سب سے زیادہ حساس معاملہ چچن اور قفقاز کے عسکری گروہوں کا ہے، جو شام میں اجناد القوقاز اور اجناد الشام جیسے دھڑوں کی شکل میں سرگرمِ عمل تھے۔ دفاعی مبصرین کے مطابق ان کے پاس اس وقت تین راستے موجود ہیں؛ وہ شام کے اندر رہ کر نئی باقاعدہ فوج کا حصہ بن جائیں، روس کے خلاف جنگ کے لیے یوکرین کا رخ کریں، یا پھر اپنے آبائی علاقوں (قفقاز) کی طرف لوٹ جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنوری 2026ء تک ان چچن جنگجوؤں کی افغانستان یا پاکستان کی طرف کسی بڑے پیمانے پر منتقلی کی کوئی معتبر اور حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔حاصل کلام یہ ہے کہ شام کی سیاسی تبدیلی کے بعد پاک افغان خطے کے لیے ایک حقیقی خطرہ برقرار ہے، کیونکہ یہ جنگجو اگر افغانستان منتقل ہوتے ہیں تو وہ 'داعش خراسان' (ISKP) اور 'تحریکِ طالبان پاکستان' (TTP) جیسے دہشت گرد گروہوں کو افرادی و تکنیکی قوت فراہم کر کے خطے کو غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔ تاہم، اب تک کی زمینی صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ شامی حکومت کی انضمام کی پالیسی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر یہ منتقلی عمل میں نہیں آ سکی۔ چونکہ یہ پورا معاملہ زیادہ تر انٹیلیجنس مفروضوں اور جغرافیائی خدشات پر منحصر ہے، اس لیے حتمی طور پر یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ اصل میں کتنے جنگجو اب تک جغرافیائی طور پر منتقل ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔