سوات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفے کا عوامی مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، مگر اس مطالبے کے جواب میں مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے ایسا بیان دیا جس نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں حیرت اور تنقید کو جنم دیا ہے۔
بیرسٹر سیف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے "مری سانحے" پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کر دیا، حالانکہ وہ واقعہ جنوری 2022 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران پیش آیا تھا، جب عمران خان وزیراعظم اور عثمان بزدار وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔
بیرسٹر سیف کا بیان: “مریم کو مری واقعے پر استعفیٰ دینا چاہیے”
میڈیا کیمروں کے سامنے بات کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا:“مری میں برف میں 23 افراد جاں بحق ہوئے تھے، مریم نواز اس پر استعفیٰ کیوں نہیں دیتیں؟”یہ بیان اس وقت دیا گیا جب سوات واقعے پر علی امین گنڈاپور سے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق بیرسٹر سیف کا یہ ردعمل "غلط وقت پر ماضی کے واقعے کا حوالہ دے کر حال سے توجہ ہٹانے کی کوشش" ہے۔
یاد دہانی: سانحہ مری — جنوری 2022
سانحہ مری 7 اور 8 جنوری 2022 کو پیش آیا جب غیر معمولی برفباری اور انتظامی نااہلی کے باعث 23 سیاح اپنی گاڑیوں میں پھنس کر شدید سردی میں دم توڑ گئے۔یہ واقعہ عثمان بزدار کے دورِ حکومت میں پیش آیا، جب وہ تحریک انصاف کے وزیراعلیٰ تھے۔متاثرین نے گھنٹوں امداد کا انتظار کیا، لیکن اسلام آباد اور راولپنڈی سے کوئی فوری امدادی کاروائی نہ ہو سکی۔
عمران خان کا ردعمل اور تنقید
اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے مرنے والوں کو ہی سانحے کا ذمے دار ٹھہراتے ہوئے کہا تھا:“غیر معمولی برفباری اور بغیر موسم کا تعین کیے بڑی تعداد میں مری جانا سانحے کا سبب بنا۔”ان کے اس بیان کو بے حسی قرار دیا گیا اور سوشل میڈیا پر انہیں اور عثمان بزدار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
سیاسی تجزیہ: غیر متعلقہ تقابل یا جواباً سیاست؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوات واقعے پر علی امین گنڈاپور کے استعفے کی بات کو مریم نواز پر ڈالنا ایک سیاسی چال ہے تاکہ ذمہ داری سے بچا جا سکے۔مری سانحے کا تعلق نہ تو موجودہ حکومت سے ہے، نہ ہی مریم نواز کسی حکومتی عہدے پر اُس وقت موجود تھیں۔ ان سے استعفیٰ کا مطالبہ محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ قرار دیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
صارفین نے بیرسٹر سیف کے بیان پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ “2022 کے واقعے پر 2025 میں استعفیٰ مانگنا غیر سنجیدہ پن کی انتہا ہے۔”کچھ صارفین نے کہا کہ "اگر یہی معیار ہے تو پھر عمران خان بھی ہر سابقہ سانحے پر استعفیٰ دیں"۔