پاکستان میں سیلاب مون سون کی شدید بارشوں، دریاؤں میں طغیانی اور اچانک آنے والے کلاؤڈ برسٹ یا گلیشیئر پھٹنے کے نتیجے میں پیش آیا
لاہور: (مانیٹرنگ ڈیسک) 2025 دنیا بھر کے لیے قدرتی آفات اور بڑے حادثات کے حوالے سے ایک انتہائی تباہ کن سال ثابت ہوا ہے۔سیلاب، زلزلے، جنگلاتی آگ اور طیاروں کے حادثات نے مختلف خطوں میں ہزاروں افراد کی جانیں لیں اور کھربوں ڈالر کا مالی نقصان ہوا جبکہ کئی ممالک کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا۔پاکستان میں2025 کا سیلاب مون سون کی شدید بارشوں، دریاؤں میں طغیانی اور اچانک آنے والے کلاؤڈ برسٹ یا گلیشیئر پھٹنے کے نتیجے میں پیش آیا۔ان آفات نے بنیادی طور پر پاکستان کے خیبر پختونخوا، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو متاثر کیا۔ خاص طور پر وادی? سوات ، گلگت میں وادی غذر اور پنجاب میں دریائے راوی، ستلج اور چناب کے اطراف کے اضلاع شدید متاثر ہوئے جہاں بڑے پیمانے پر جانی نقصان، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور لاکھوں افراد کی نقل مکانی ہوئی۔مجموعی طور پر 831 سے زائد افراد ہلاک، 965 سے زیادہ زخمی اور 2 ملین کے قریب افراد بے گھر ہوئے، جون اور اگست 2025 میں دریائے سوات کے کنارے شدید فلش فلڈز آئے جن میں درجنوں سیاح اور مقامی افراد ہلاک ہوئے۔صرف بونیر اور سوات میں مرنے والوں کی تعداد 150 سے تجاوز کر گئی، 20 اگست 2025 کو دریائے چناب اور دریائے راوی میں طغیانی آئی جس سے 8400 دیہات اور 10 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی زمین زیرِ آب آگئی، تقریباً ایک لاکھ افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ستمبر 2025 میں سندھ کے دریائے علاقوں یا کچے میں ہنگامی صورت حال پیدا ہوئی جہاں
سے 100000 سے زائد افراد کو نکالا گیا، مجموعی طور پر پاکستان میں سیلاب سے دس دنوں میں 400 افراد جان کی بازی ہا گئے جبکہ یو این کی جانب سے 6 لاکھ ڈالر امداد فراہم کی گئی ہے۔دسمبر کے وسط میں امریکا کی ریاست واشنگٹن میں شدید سیلاب آئے جنہوں نے سکاجٹ کاؤنٹی کو متاثر کیا، سوماس اور ہیملٹن جیسے قصبے زیرِ آب آ گئے، جہاں سوماس کے تقریباً 75 فیصد گھروں کو نقصان پہنچا اور ایک لاکھ سے زائد افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی، اسی ماہ انڈونیشیا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں 846 افراد ہلاک اور 547 لاپتہ ہو گئے جبکہ ہزاروں مکانات اور زرعی زمین تباہ ہو گئی۔