وزیراعلیٰ کے پی نے کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کا آغاز کر دیا

وزیراعلیٰ کے پی نے کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کا آغاز کر دیا

پشاور: خیبر پختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ نے صوبے میں کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے اور کرپشن کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح بن چکا ہے۔

 پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منشور کے مطابق، کرپشن کے خاتمے کے لئے کریک ڈاؤن کی حکمت عملی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اینٹی کرپشن مصدق عباسی نے اینٹی کرپشن مہم کی کمان سنبھال لی ہے۔

نیا اینٹی کرپشن ایکٹ:
کے پی حکومت کی جانب سے نئے اینٹی کرپشن ایکٹ کی منظوری کے بعد کرپٹ افراد کے خلاف سخت کارروائیاں کی جائیں گی۔ چوروں، لٹیروں اور بدعنوان مافیا کے خلاف بلا تفریق احتساب کا آغاز کیا جائے گا، جس میں کرپشن کے خاتمے کے لئے کئی اہم اقدامات شامل ہیں۔

اہم اقدامات:
کنوکشن ریٹ میں اضافہ: کنوکشن ریٹ کو 2 فیصد سے بڑھا کر 70 سے 80 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ریکوری کا منصوبہ: لوٹی گئی دولت کی واپسی کے لیے براہ راست 50 کروڑ اور بالواسطہ 5 ارب روپے کی ریکوری کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
شفاف احتساب: سیاسی مداخلت سے پاک اور غیر جانبدار اینٹی کرپشن فورس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
پراسیکیوشن سسٹم میں اصلاحات: اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ پراسیکیوٹرز کی تعیناتی کی جائے گی۔
بے نامی جائیدادوں کی ضبطگی: ناجائز دولت چھپانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
غلط الزامات کی سزا: جھوٹی شکایات لگانے والوں کے خلاف سخت سزائیں دی جائیں گی۔
جواب دہی: محکموں کو جواب دہ بنایا جائے گا، اور مقررہ وقت میں معلومات فراہم نہ کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انعامی اسکیم: کرپشن کی نشاندہی کرنے والوں کے لیے انعامات دیے جائیں گے۔
عدالتی نظام میں اصلاحات: کرپشن کیسز کا فوری فیصلہ ہوگا، اور تاخیری حربے نہیں چلیں گے۔
مالیاتی نگرانی: ایف اے ٹی ایف اور IMF کی شرائط کے مطابق مالیاتی نگرانی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ کا عہد:
وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے عمران خان کے ویژن کے مطابق خیبر پختونخوا کو کرپشن سے مکمل طور پر پاک کرنے کا عہد کیا ہے اور کہا ہے کہ کرپشن کے خلاف یہ مہم بھرپور انداز میں جاری رکھی جائے گی۔