تین روز قبل امریکا میں پیش آنے والے ایک حادثے میں پاکستانی نژاد خاتون اسریٰ حسین کی جان گئی۔
اسریٰ حسین 26 سال کی تھیں اور ان کی میت اہلخانہ کے حوالے کر دی گئی ہے، جبکہ ان کی تدفین اتوار کو انڈیانا پولس میں کی جائے گی۔اسریٰ حسین کا تعلق امریکی ریاست انڈیانا کے علاقے کارمل سے تھا، اور انہوں نے انڈیانا یونیورسٹی بلومینگٹن سے 2020 میں ہیلتھ کیئر مینجمنٹ میں گریجویشن کی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے اسی شعبے میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اسریٰ حسین اور ان کے شوہر حامد رضا کی پہلی ملاقات انڈیانا یونیورسٹی میں ہوئی تھی، جب حامد رضا کیلی اسکول آف بزنس سے فنانس میں گریجویٹ ہو رہے تھے۔ دونوں کی ملاقات مسلم اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کی ایک تقریب میں ہوئی تھی۔
اسریٰ حسین اپنے کام کے سلسلے میں کنساس گئی ہوئی تھیں، جہاں انہیں ایک ہسپتال کی حالت بہتر بنانی تھی۔ وہ دوران پرواز بھی اپنے کام میں مصروف تھیں جب یہ حادثہ پیش آیا۔یہ حادثہ واشنگٹن ایئرپورٹ کے قریب پیش آیا، جہاں ایک مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے۔ اس حادثے میں دونوں طیاروں میں سوار 67 مسافر ہلاک ہو گئے، اور دریا میں گرنے والے طیارے سے اب تک 40 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جن میں سے 28 کی شناخت ہو چکی ہے۔